O Level Urdu First Language (3247)
Reading comprehension Banker
5 questions · about 25% of the marks we indexed · examined in 5 of 5 sessions.
Practice questions
Original questions written by HomiLabs in the style of the exam, with answers and mark schemes. They are not
Cambridge past paper questions and have not been reviewed by Cambridge. Try each one before opening the answer.
Q1Views of people in the passage · Core · Paper 1 style · 4 marksاقتباس: محلے کی لائبریریملتان کے ایک پرانے محلے میں "دارالمطالعہ" نام کی چھوٹی سی لائبریری ساٹھ برس سے قائم ہے۔ کبھی یہاں شام کو بیٹھنے کی جگہ نہیں ملتی تھی؛ لوگ اخبار پڑھنے، ناول لینے اور بحث کرنے آتے تھے۔ اب اکثر کرسیاں خالی رہتی ہیں۔ لائبریری کے نگران کہتے ہیں کہ نوجوانوں کا وقت اب موبائل فون کی اسکرین لے گئی ہے اور مختصر ویڈیوز دیکھنے کی عادت نے لمبی تحریر پڑھنے کا صبر ختم کر دیا ہے۔ کتابیں مہنگی ہو گئی ہیں، اسکولوں میں نصاب کے علاوہ پڑھنے کی حوصلہ افزائی کم ہوتی ہے اور بہت سے والدین خود بھی کتاب ہاتھ میں نہیں لیتے، اس لیے بچوں کے سامنے کوئی مثال نہیں ہوتی۔لائبریری کی پرانی رکن، ریٹائرڈ پروفیسر نسرین اختر، کا کہنا ہے کہ کتاب پڑھنا ذہن کی ورزش ہے۔ "کہانی پڑھتے ہوئے بچہ خود منظر بناتا ہے، اس کا تخیل بڑھتا ہے اور وہ دوسروں کے دکھ سکھ کو سمجھنا سیکھتا ہے۔ اسکرین سب کچھ تیار کر کے دے دیتی ہے، سوچنے کا موقع نہیں دیتی۔" ان کی رائے میں ڈیجیٹل کتاب بری نہیں، اصل بات پڑھنے کی عادت ہے، چاہے کاغذ پر ہو یا فون پر۔پچھلے سال محلے کے چند نوجوانوں نے لائبریری میں ہر ہفتے "کہانی کی شام" شروع کی۔ بچے آ کر کہانیاں سنتے ہیں اور پھر خود سناتے ہیں۔ اب تیس سے زیادہ بچے باقاعدہ رکن بن چکے ہیں، کچھ والدین بھی ان کے ساتھ آنے لگے ہیں، اور ایک مقامی تاجر نے نئی کتابوں کے لیے الماری عطیہ کی ہے۔ نگران مسکرا کر کہتے ہیں کہ شاید یہ کرسیاں پھر سے بھرنے لگیں۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) پروفیسر نسرین اختر کے نزدیک کتاب پڑھنے کے کیا فائدے ہیں؟ تین نکات لکھیے۔ [3]
- (b) ڈیجیٹل کتاب کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے؟ [1]
Show answer
- (a) 1) کتاب پڑھنا ذہن کی ورزش ہے۔ 2) بچہ خود منظر بناتا ہے اور اس کا تخیل بڑھتا ہے۔ 3) وہ دوسروں کے دکھ سکھ سمجھنا سیکھتا ہے۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ تینوں نکات۔
- (b) ڈیجیٹل کتاب بری نہیں؛ اصل چیز پڑھنے کی عادت ہے، کاغذ پر ہو یا فون پر۔
1 نمبر۔
Q2Views of people in the passage · Core · Paper 1 style · 3 marksاقتباس: جاپان اور زلزلےجاپان دنیا کے ان ملکوں میں سے ہے جہاں سب سے زیادہ زلزلے آتے ہیں۔ یہاں ہر سال سیکڑوں جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں، مگر بڑے زلزلوں میں بھی جانی نقصان اکثر توقع سے بہت کم رہتا ہے۔ اس کی وجہ برسوں کی تیاری ہے۔ ٹوکیو کی اونچی عمارتیں ایسی بنیادوں پر کھڑی کی جاتی ہیں جو جھٹکوں کو جذب کر لیتی ہیں، اور تعمیر کے قوانین پر سختی سے عمل ہوتا ہے۔ زلزلے کی شدید لہریں پہنچنے سے چند سیکنڈ پہلے ہی موبائل فونوں، ٹی وی اور ٹرینوں کو خودکار وارننگ مل جاتی ہے، اور تیز رفتار ٹرینیں خود بخود رکنا شروع کر دیتی ہیں۔ہر سال یکم ستمبر کو ملک بھر میں آفات سے بچاؤ کا دن منایا جاتا ہے۔ اسکولوں میں بچے مشق کرتے ہیں کہ جھٹکا محسوس ہوتے ہی میز کے نیچے چھپ جائیں، سر کو بازوؤں سے ڈھانپیں اور پھر قطار بنا کر کھلے میدان میں جمع ہوں۔ ٹوکیو میں پڑھنے والی پاکستانی طالبہ مہوش ملک بتاتی ہیں: "پہلی بار جب کمرہ ہلا تو میں چیخ پڑی، لیکن میری جاپانی ہم جماعت بالکل پرسکون تھی۔ اس نے کہا کہ گھبراہٹ سب سے بڑا خطرہ ہے۔ یہاں سب کو معلوم ہے کہ کیا کرنا ہے، اس لیے کوئی بھگدڑ نہیں مچتی۔" مہوش کے خیال میں پاکستان کو اس نظم و ضبط سے بہت کچھ سیکھنا چاہیے، خاص طور پر اسکولوں میں باقاعدہ مشقیں کروانی چاہییں۔جاپانی ماہرین ہر گھر کو مشورہ دیتے ہیں کہ ایک ہنگامی تھیلا تیار رکھیں جس میں تین دن کا پانی، خشک خوراک، ٹارچ، دوائیں اور ضروری کاغذات ہوں۔ بھاری الماریوں کو دیوار کے ساتھ کس دیا جائے اور خاندان پہلے سے طے کر لے کہ بچھڑ جانے کی صورت میں کس جگہ ملنا ہے۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) مہوش ملک کے تجربے اور خیالات کو تین نکات میں لکھیے۔ [3]
Show answer
- (a) 1) پہلی بار کمرہ ہلنے پر وہ چیخ پڑی جبکہ جاپانی ہم جماعت پرسکون رہی۔ 2) جاپان میں سب کو معلوم ہے کہ کیا کرنا ہے، اس لیے بھگدڑ نہیں مچتی؛ گھبراہٹ سب سے بڑا خطرہ ہے۔ 3) ان کے خیال میں پاکستان کو یہ نظم و ضبط سیکھنا چاہیے اور اسکولوں میں باقاعدہ مشقیں کروانی چاہییں۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ تینوں نکات۔
Q3Views of people in the passage · Standard · Paper 1 style · 4 marksاقتباس: کراچی کا ساحل اور پلاسٹککراچی کا ساحل کبھی شہریوں کی سب سے پسندیدہ تفریح گاہ تھا، مگر آج سی ویو پر چلتے ہوئے قدم قدم پر پلاسٹک کی بوتلیں، چپس کے خالی پیکٹ اور رنگ برنگے تھیلے نظر آتے ہیں۔ پچھلے بیس برسوں میں شہر کی آبادی تیزی سے بڑھی ہے اور ہر دکان پر سودا پلاسٹک کے تھیلوں میں دیا جانے لگا ہے، کیونکہ یہ سستے اور ہلکے ہوتے ہیں۔ چھٹی کے دن ہزاروں لوگ ساحل پر آتے ہیں، لیکن کوڑا دان بہت کم ہیں اور جو ہیں وہ اکثر بھرے رہتے ہیں۔ بارش کے موسم میں شہر کے نالے بھی یہی کچرا بہا کر سمندر تک لے آتے ہیں۔سمندری حیات کی ماہر ڈاکٹر ثمینہ بلوچ کہتی ہیں کہ پلاسٹک کا ایک تھیلا سیکڑوں برس تک ختم نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق سمندری کچھوے پانی میں تیرتے تھیلوں کو جیلی فش سمجھ کر نگل لیتے ہیں اور ان کا معدہ بند ہو جاتا ہے۔ وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ پلاسٹک کے باریک ذرات مچھلیوں کے جسم میں پہنچ کر آخرکار ہماری خوراک کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان کی رائے میں یہ مسئلہ صرف حکومت کا نہیں بلکہ ہر شہری کا ہے۔ساحل کے قریب چائے کا ڈھابا چلانے والے نواز خان نے اپنے گاہکوں کو کپڑے کے تھیلے دینا شروع کیے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: "اگر ہر دکاندار پلاسٹک کے بجائے کاغذ یا کپڑے کا تھیلا دے تو آدھا مسئلہ حل ہو جائے۔" مقامی طلبہ کی ایک تنظیم ہر مہینے کے پہلے اتوار کو ساحل کی صفائی کرتی ہے۔ تنظیم کی سربراہ عائشہ کا مشورہ ہے کہ اسکولوں میں بچوں کو کچرا الگ الگ کرنے کی تربیت دی جائے اور ساحل پر ہر سو قدم کے فاصلے پر کوڑا دان رکھا جائے۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) ڈاکٹر ثمینہ بلوچ پلاسٹک کے بارے میں کیا خیالات رکھتی ہیں؟ اپنے الفاظ میں چار نکات لکھیے۔ [4]
Show answer
- (a) 1) پلاسٹک کا تھیلا سیکڑوں برس تک ختم نہیں ہوتا۔ 2) کچھوے تھیلوں کو جیلی فش سمجھ کر نگل لیتے ہیں اور ان کا معدہ بند ہو جاتا ہے۔ 3) پلاسٹک کے باریک ذرات مچھلیوں کے ذریعے انسانوں کی خوراک میں پہنچ جاتے ہیں۔ 4) یہ صرف حکومت کا نہیں، ہر شہری کا مسئلہ ہے۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ چاروں نکات درکار: دیر پا ہونا؛ کچھووں کی موت؛ خوراک کے سلسلے میں ذرات؛ ہر شہری کی ذمہ داری۔ نواز خان یا عائشہ کی باتیں یہاں قبول نہیں۔
Q4Views of people in the passage · Standard · Paper 1 style · 4 marksاقتباس: کوئٹہ کی سوکھتی کاریزیںکوئٹہ کو کبھی "پھلوں کی ٹوکری" کہا جاتا تھا۔ یہاں کے باغوں میں سیب، انگور اور خوبانی کی بہار ہوتی تھی اور صدیوں پرانی کاریزیں پہاڑوں کا پانی کھیتوں تک پہنچاتی تھیں۔ آج ان میں سے بیشتر کاریزیں سوکھ چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ زمین سے پانی نکالنے کے لیے ہزاروں ٹیوب ویل لگا دیے گئے ہیں جو بارش سے بھرنے والے پانی سے کہیں زیادہ پانی کھینچ لیتے ہیں۔ شہر کی آبادی کئی گنا بڑھ گئی ہے، بارشیں پہلے سے کم اور بے ترتیب ہو گئی ہیں، اور پرانی پائپ لائنوں سے بہت سا پانی راستے ہی میں ضائع ہو جاتا ہے۔ستر سالہ کسان حاجی عبدالرحمان کہتے ہیں: "میرے بچپن میں کاریز کا پانی سال بھر بہتا تھا۔ ہم پانی کو اللہ کی امانت سمجھتے تھے اور باری کے مطابق بانٹتے تھے۔ آج ہر شخص اپنا ٹیوب ویل لگا کر جتنا چاہے پانی نکال لیتا ہے، کسی کو آنے والی نسل کی فکر نہیں۔" ان کا خیال ہے کہ اگر یہی حال رہا تو ان کے پوتے کھیتی باڑی چھوڑ کر شہر میں مزدوری کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔پانی کے ماہر انجینئر فرحان کاکڑ تجویز دیتے ہیں کہ پہاڑی نالوں پر چھوٹے ڈیم بنائے جائیں تاکہ بارش کا پانی رک کر زمین میں جذب ہو اور زیرِ زمین ذخیرہ دوبارہ بھر سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسانوں کو کھلے کھیت میں پانی چھوڑنے کے بجائے ڈرپ یعنی قطرہ قطرہ آبپاشی اپنانی چاہیے، اور نئے ٹیوب ویلوں کے لیے لائسنس لازمی کیا جائے۔ وہ گھروں میں چھتوں سے بارش کا پانی جمع کرنے کا مشورہ بھی دیتے ہیں۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) حاجی عبدالرحمان ماضی اور حال میں پانی کے استعمال کا موازنہ کس طرح کرتے ہیں؟ تین نکات لکھیے۔ [3]
- (b) حاجی عبدالرحمان کو مستقبل کے بارے میں کیا خدشہ ہے؟ [1]
Show answer
- (a) 1) ماضی میں کاریز کا پانی سال بھر بہتا تھا۔ 2) لوگ پانی کو اللہ کی امانت سمجھ کر باری کے مطابق بانٹتے تھے۔ 3) آج ہر شخص اپنا ٹیوب ویل لگا کر جتنا چاہے پانی نکالتا ہے اور آنے والی نسل کی فکر نہیں کرتا۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ تینوں نکات؛ موازنہ واضح ہو۔
- (b) ان کے پوتے کھیتی چھوڑ کر شہر میں مزدوری پر مجبور ہو جائیں گے۔
1 نمبر۔
Q5Views of people in the passage · Standard · Paper 1 style · 3 marksاقتباس: شادیوں میں کھانے کا ضیاعپاکستان میں شادی کی تقریبات میں کھانے کی میز کسی میلے سے کم نہیں ہوتی۔ بریانی، قورمہ، کباب، تکے، حلوے اور کھیر کی درجنوں ڈشیں سجائی جاتی ہیں۔ مگر تقریب ختم ہونے کے بعد پلیٹوں میں بچا ہوا کھانا دیکھیں تو دل دکھتا ہے۔ ایک غیر سرکاری تنظیم کے سروے کے مطابق بڑی تقریبات میں پکنے والے کھانے کا تقریباً ایک تہائی حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ مہمان ایک ساتھ کئی ڈشیں پلیٹ میں ڈال لیتے ہیں اور آدھی چھوڑ دیتے ہیں، جبکہ میزبان اس ڈر سے ضرورت سے زیادہ کھانا پکواتے ہیں کہ کہیں کم نہ پڑ جائے اور برادری میں باتیں نہ ہوں۔اسلام آباد کے ایک شادی ہال کے منیجر طارق محمود بتاتے ہیں کہ ہر رات کئی دیگیں بچ جاتی ہیں۔ "پہلے یہ کھانا کچرے میں جاتا تھا اور مجھے بہت افسوس ہوتا تھا۔ اب ہم نے ایک فوڈ بینک سے رابطہ کیا ہے جو رات گیارہ بجے گاڑی بھیج کر صاف بچا ہوا کھانا لے جاتا ہے اور قریبی بستیوں میں بانٹ دیتا ہے۔" ان کا کہنا ہے کہ بہت سے مہمان اب خود پوچھتے ہیں کہ بچا ہوا کھانا کہاں جائے گا، اور یہ تبدیلی انہیں امید دلاتی ہے۔غذائی ماہر ڈاکٹر رابعہ قریشی کے نزدیک یہ صرف کھانے کا ضیاع نہیں بلکہ اس پانی، بجلی، گیس اور محنت کا بھی ضیاع ہے جو اسے اگانے اور پکانے میں لگی۔ وہ مشورہ دیتی ہیں کہ ڈشوں کی تعداد محدود کی جائے، پلیٹ میں تھوڑا کھانا ڈال کر ضرورت ہو تو دوبارہ لیا جائے، اور مہمانوں کی صحیح تعداد معلوم کر کے کھانا پکوایا جائے۔ ان کے خیال میں یہ پیغام بچوں تک پہنچانا سب سے ضروری ہے، کیونکہ عادتیں بچپن میں بنتی ہیں۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) شادی ہال کے منیجر طارق محمود کے تجربے اور خیالات کو تین نکات میں بیان کیجیے۔ [3]
Show answer
- (a) 1) ہر رات کئی دیگیں بچ جاتی ہیں جو پہلے کچرے میں جاتی تھیں اور انہیں افسوس ہوتا تھا۔ 2) اب فوڈ بینک رات گیارہ بجے صاف بچا ہوا کھانا لے جا کر قریبی بستیوں میں بانٹتا ہے۔ 3) مہمان خود پوچھنے لگے ہیں کہ بچا کھانا کہاں جائے گا، اور یہ تبدیلی انہیں امید دلاتی ہے۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ تینوں نکات۔
Q6Views of people in the passage · Standard · Paper 1 style · 4 marksاقتباس: موبائل فون اور نیندرات کے دو بج رہے ہیں اور سولہ سالہ حمزہ کے کمرے کی بتی بجھی ہوئی ہے، مگر اس کے چہرے پر موبائل اسکرین کی نیلی روشنی پڑ رہی ہے۔ وہ "بس ایک اور ویڈیو" کہتے ہوئے گھنٹہ گزار چکا ہے۔ صبح اسکول میں اس کی آنکھیں بوجھل ہوں گی۔ ماہرین کے مطابق حمزہ اکیلا نہیں؛ دنیا بھر میں نوجوانوں کی بڑی تعداد ضرورت سے کم سو رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسکرین کی نیلی روشنی دماغ کو دن کا اشارہ دیتی ہے اور نیند لانے والا ہارمون، میلاٹونن، کم بنتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بہت سی ایپس اس طرح بنائی جاتی ہیں کہ ایک ویڈیو ختم ہوتے ہی دوسری شروع ہو جائے، اس لیے رکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پھر دوستوں کے پیغامات کا فوراً جواب نہ دینے کا ڈر بھی بچوں کو جگائے رکھتا ہے۔پشاور کی ماہرِ امراضِ اطفال ڈاکٹر گل نسا کہتی ہیں کہ نوعمروں کو روزانہ آٹھ سے دس گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ "نیند پوری نہ ہو تو یادداشت کمزور پڑتی ہے، مزاج چڑچڑا ہو جاتا ہے اور وزن بڑھنے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ میں والدین سے کہتی ہوں کہ موبائل کو دشمن نہ سمجھیں، مگر اسے بچے کے بستر کا ساتھی بھی نہ بننے دیں۔" ان کے مطابق بچے وہی کرتے ہیں جو بڑوں کو کرتے دیکھتے ہیں، اس لیے پہلے والدین کو اپنی عادت بدلنی ہوگی۔ڈاکٹر گل نسا کا مشورہ ہے کہ سونے سے ایک گھنٹہ پہلے تمام اسکرینیں بند کر دی جائیں اور فون رات کو کمرے سے باہر چارج کیا جائے۔ گھر میں سونے اور جاگنے کا ایک وقت مقرر ہو، چاہے چھٹی کا دن ہی کیوں نہ ہو۔ وہ کہتی ہیں کہ رات کو اسکرین کے بجائے کتاب پڑھنا یا گھر والوں سے ہلکی پھلکی بات چیت کرنا نیند کے لیے بہترین ہے۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) ڈاکٹر گل نسا نیند کی کمی اور موبائل فون کے بارے میں کیا خیالات رکھتی ہیں؟ چار نکات لکھیے۔ (ان کے مشورے اس سوال میں شامل نہ کیجیے۔) [4]
Show answer
- (a) 1) نوعمروں کو روزانہ آٹھ سے دس گھنٹے نیند چاہیے۔ 2) نیند پوری نہ ہو تو یادداشت کمزور، مزاج چڑچڑا اور وزن بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ 3) موبائل کو دشمن نہ سمجھیں مگر اسے بچے کے بستر کا ساتھی نہ بننے دیں۔ 4) بچے بڑوں کی نقل کرتے ہیں، اس لیے پہلے والدین اپنی عادت بدلیں۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ چار نکات؛ آخری پیراگراف کے مشورے یہاں قبول نہیں۔
Q7Views of people in the passage · Challenge · Paper 1 style · 4 marksاقتباس: پہاڑی گاؤں میں آن لائن تعلیمکورونا کی وبا کے دنوں میں جب اسکول بند ہوئے تو بڑے شہروں کے بچوں نے لیپ ٹاپ اور موبائل فون پر کلاسیں لینا شروع کر دیں، مگر مانسہرہ کے ایک پہاڑی گاؤں کے بچوں کے لیے یہ آسان نہ تھا۔ گاؤں میں موبائل سگنل صرف ایک ٹیلے پر آتا تھا، اس لیے طالب علم شام کو وہاں جمع ہو کر سبق ڈاؤن لوڈ کرتے۔ اکثر گھروں میں ایک ہی فون تھا جو والد کام پر ساتھ لے جاتے، اور بجلی دن میں کئی گھنٹے غائب رہتی۔گاؤں کے سرکاری اسکول کی استانی شازیہ پروین کہتی ہیں کہ آن لائن تعلیم نے ان کی آنکھیں کھول دیں۔ "میں نے دیکھا کہ جو بچے کلاس میں خاموش رہتے تھے وہ ویڈیو دیکھ کر زیادہ سوال پوچھنے لگے۔ لیکن ٹیکنالوجی استاد کی جگہ نہیں لے سکتی؛ چھوٹے بچوں کو سامنے بیٹھا استاد چاہیے جو ان کی کاپی دیکھے اور حوصلہ دے۔" ان کے خیال میں بہترین طریقہ یہ ہے کہ کلاس روم کی پڑھائی کے ساتھ آن لائن مواد کو مددگار کے طور پر استعمال کیا جائے۔اب ایک غیر سرکاری ادارے نے اسکول میں سولر پینل اور دس ٹیبلٹ فراہم کیے ہیں، جن میں انٹرنیٹ کے بغیر چلنے والے اسباق پہلے سے محفوظ ہیں۔ شازیہ کا مشورہ ہے کہ حکومت دور دراز علاقوں میں موبائل ٹاور لگائے، اساتذہ کو ڈیجیٹل آلات کی تربیت دے اور اسباق اردو اور مقامی زبانوں میں بھی تیار کرے تاکہ ہر بچہ آسانی سے سمجھ سکے۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) استانی شازیہ پروین آن لائن تعلیم کے بارے میں کیا رائے رکھتی ہیں؟ اس کے فائدے اور حد دونوں کو شامل کرتے ہوئے چار نکات لکھیے۔ [4]
Show answer
- (a) 1) آن لائن تعلیم نے ان کی آنکھیں کھول دیں / نئے امکانات دکھائے۔ 2) خاموش رہنے والے بچے ویڈیو دیکھ کر زیادہ سوال پوچھنے لگے۔ 3) ٹیکنالوجی استاد کی جگہ نہیں لے سکتی؛ چھوٹے بچوں کو سامنے بیٹھا استاد چاہیے جو کاپی دیکھے اور حوصلہ دے۔ 4) بہترین طریقہ یہ ہے کہ کلاس روم کی پڑھائی کے ساتھ آن لائن مواد مددگار کے طور پر استعمال ہو۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ چار نکات؛ کم از کم ایک فائدہ اور ایک حد شامل ہو۔ شازیہ کی حکومتی تجاویز (آخری پیراگراف) یہاں رائے کے طور پر قبول نہیں۔
Q8Views of people in the passage · Challenge · Paper 1 style · 4 marksاقتباس: صحرا میں شمسی روشنیتھرپارکر کے صحرا میں بسنے والی کئی بستیوں میں کچھ برس پہلے تک سورج ڈھلتے ہی اندھیرا چھا جاتا تھا۔ قومی گرڈ کی بجلی یہاں تک نہیں پہنچی تھی، کیونکہ گھر ریت کے ٹیلوں میں دور دور بکھرے ہوئے ہیں اور ہر گھر تک کھمبے اور تار لے جانا بہت مہنگا تھا۔ لوگ مٹی کے تیل کے دیے جلاتے تھے جن کا دھواں آنکھوں اور پھیپھڑوں کے لیے نقصان دہ تھا۔ دوسری طرف اس صحرا میں سال کے بیشتر دن تیز دھوپ نکلتی ہے، اسی لیے یہاں شمسی توانائی سب سے موزوں حل سمجھی گئی۔اب بیشتر گھروں کی چھتوں پر چھوٹے سولر پینل لگے ہیں۔ ان سے دو بلب، ایک پنکھا اور موبائل فون چارج کرنے کا انتظام ہو جاتا ہے۔ بچے رات کو پڑھ سکتے ہیں، عورتیں شام کو کڑھائی کر کے کچھ آمدنی کما لیتی ہیں اور گاؤں کے کنویں پر سولر پمپ لگنے سے پانی کھینچنے کی مشقت بہت کم ہو گئی ہے۔ مٹی کے تیل پر ہر مہینے خرچ ہونے والی رقم بھی بچ جاتی ہے۔اس منصوبے پر کام کرنے والی انجینئر ماروی میگھواڑ کہتی ہیں کہ سولر پینل لگانا آسان ہے، انہیں چلائے رکھنا مشکل۔ "ریت کے طوفان پینلوں پر گرد کی تہہ جما دیتے ہیں اور بیٹریاں چند سال میں جواب دے دیتی ہیں۔ اگر گاؤں ہی کے نوجوانوں کو مرمت کا ہنر سکھایا جائے تو یہ نظام برسوں چل سکتا ہے۔" ان کے نزدیک اصل کامیابی بجلی نہیں بلکہ وہ اعتماد ہے جو ان بستیوں کے لوگوں میں پیدا ہوا ہے۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) انجینئر ماروی میگھواڑ منصوبے کی مشکلات، ان کے حل اور اصل کامیابی کے بارے میں کیا کہتی ہیں؟ چار نکات لکھیے۔ [4]
Show answer
- (a) 1) پینل لگانا آسان، چلائے رکھنا مشکل ہے۔ 2) ریت کے طوفان پینلوں پر گرد جما دیتے ہیں اور بیٹریاں چند سال میں خراب ہو جاتی ہیں۔ 3) گاؤں کے نوجوانوں کو مرمت کا ہنر سکھایا جائے تو نظام برسوں چل سکتا ہے۔ 4) اصل کامیابی بجلی نہیں بلکہ لوگوں میں پیدا ہونے والا اعتماد ہے۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ چاروں نکات؛ گرد اور بیٹری کو ایک یا دو الگ نکات مانا جا سکتا ہے، مگر کل چار سے زیادہ نہیں۔
Q9Solutions, measures and advice · Core · Paper 1 style · 4 marksاقتباس: موبائل فون اور نیندرات کے دو بج رہے ہیں اور سولہ سالہ حمزہ کے کمرے کی بتی بجھی ہوئی ہے، مگر اس کے چہرے پر موبائل اسکرین کی نیلی روشنی پڑ رہی ہے۔ وہ "بس ایک اور ویڈیو" کہتے ہوئے گھنٹہ گزار چکا ہے۔ صبح اسکول میں اس کی آنکھیں بوجھل ہوں گی۔ ماہرین کے مطابق حمزہ اکیلا نہیں؛ دنیا بھر میں نوجوانوں کی بڑی تعداد ضرورت سے کم سو رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسکرین کی نیلی روشنی دماغ کو دن کا اشارہ دیتی ہے اور نیند لانے والا ہارمون، میلاٹونن، کم بنتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بہت سی ایپس اس طرح بنائی جاتی ہیں کہ ایک ویڈیو ختم ہوتے ہی دوسری شروع ہو جائے، اس لیے رکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پھر دوستوں کے پیغامات کا فوراً جواب نہ دینے کا ڈر بھی بچوں کو جگائے رکھتا ہے۔پشاور کی ماہرِ امراضِ اطفال ڈاکٹر گل نسا کہتی ہیں کہ نوعمروں کو روزانہ آٹھ سے دس گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ "نیند پوری نہ ہو تو یادداشت کمزور پڑتی ہے، مزاج چڑچڑا ہو جاتا ہے اور وزن بڑھنے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ میں والدین سے کہتی ہوں کہ موبائل کو دشمن نہ سمجھیں، مگر اسے بچے کے بستر کا ساتھی بھی نہ بننے دیں۔" ان کے مطابق بچے وہی کرتے ہیں جو بڑوں کو کرتے دیکھتے ہیں، اس لیے پہلے والدین کو اپنی عادت بدلنی ہوگی۔ڈاکٹر گل نسا کا مشورہ ہے کہ سونے سے ایک گھنٹہ پہلے تمام اسکرینیں بند کر دی جائیں اور فون رات کو کمرے سے باہر چارج کیا جائے۔ گھر میں سونے اور جاگنے کا ایک وقت مقرر ہو، چاہے چھٹی کا دن ہی کیوں نہ ہو۔ وہ کہتی ہیں کہ رات کو اسکرین کے بجائے کتاب پڑھنا یا گھر والوں سے ہلکی پھلکی بات چیت کرنا نیند کے لیے بہترین ہے۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) اچھی نیند کے لیے ڈاکٹر گل نسا کون سے عملی مشورے دیتی ہیں؟ چار نکات لکھیے۔ [4]
Show answer
- (a) 1) سونے سے ایک گھنٹہ پہلے سب اسکرینیں بند کر دیں۔ 2) فون رات کو کمرے سے باہر چارج کریں۔ 3) سونے جاگنے کا ایک وقت مقرر ہو، چھٹی کے دن بھی۔ 4) رات کو اسکرین کے بجائے کتاب پڑھیں یا گھر والوں سے ہلکی بات چیت کریں۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ چاروں مشورے۔
Q10Solutions, measures and advice · Standard · Paper 1 style · 4 marksاقتباس: کراچی کا ساحل اور پلاسٹککراچی کا ساحل کبھی شہریوں کی سب سے پسندیدہ تفریح گاہ تھا، مگر آج سی ویو پر چلتے ہوئے قدم قدم پر پلاسٹک کی بوتلیں، چپس کے خالی پیکٹ اور رنگ برنگے تھیلے نظر آتے ہیں۔ پچھلے بیس برسوں میں شہر کی آبادی تیزی سے بڑھی ہے اور ہر دکان پر سودا پلاسٹک کے تھیلوں میں دیا جانے لگا ہے، کیونکہ یہ سستے اور ہلکے ہوتے ہیں۔ چھٹی کے دن ہزاروں لوگ ساحل پر آتے ہیں، لیکن کوڑا دان بہت کم ہیں اور جو ہیں وہ اکثر بھرے رہتے ہیں۔ بارش کے موسم میں شہر کے نالے بھی یہی کچرا بہا کر سمندر تک لے آتے ہیں۔سمندری حیات کی ماہر ڈاکٹر ثمینہ بلوچ کہتی ہیں کہ پلاسٹک کا ایک تھیلا سیکڑوں برس تک ختم نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق سمندری کچھوے پانی میں تیرتے تھیلوں کو جیلی فش سمجھ کر نگل لیتے ہیں اور ان کا معدہ بند ہو جاتا ہے۔ وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ پلاسٹک کے باریک ذرات مچھلیوں کے جسم میں پہنچ کر آخرکار ہماری خوراک کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان کی رائے میں یہ مسئلہ صرف حکومت کا نہیں بلکہ ہر شہری کا ہے۔ساحل کے قریب چائے کا ڈھابا چلانے والے نواز خان نے اپنے گاہکوں کو کپڑے کے تھیلے دینا شروع کیے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: "اگر ہر دکاندار پلاسٹک کے بجائے کاغذ یا کپڑے کا تھیلا دے تو آدھا مسئلہ حل ہو جائے۔" مقامی طلبہ کی ایک تنظیم ہر مہینے کے پہلے اتوار کو ساحل کی صفائی کرتی ہے۔ تنظیم کی سربراہ عائشہ کا مشورہ ہے کہ اسکولوں میں بچوں کو کچرا الگ الگ کرنے کی تربیت دی جائے اور ساحل پر ہر سو قدم کے فاصلے پر کوڑا دان رکھا جائے۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) نواز خان اور عائشہ نے پلاسٹک کے مسئلے کو کم کرنے کے لیے کون سی تجاویز دی ہیں؟ تین نکات لکھیے۔ [3]
- (b) طلبہ کی تنظیم اس مسئلے کے حل کے لیے عملی طور پر کیا کر رہی ہے؟ [1]
Show answer
- (a) 1) (نواز خان) دکاندار پلاسٹک کے بجائے کاغذ یا کپڑے کے تھیلے دیں۔ 2) (عائشہ) اسکولوں میں بچوں کو کچرا الگ الگ کرنے کی تربیت دی جائے۔ 3) (عائشہ) ساحل پر ہر سو قدم پر کوڑا دان رکھا جائے۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ تینوں تجاویز، ہر ایک پر 1 نمبر۔
- (b) ہر مہینے کے پہلے اتوار کو ساحل کی صفائی کرتی ہے۔
1 نمبر: ماہانہ صفائی (پہلا اتوار)۔
Q11Solutions, measures and advice · Standard · Paper 1 style · 4 marksاقتباس: پہاڑی گاؤں میں آن لائن تعلیمکورونا کی وبا کے دنوں میں جب اسکول بند ہوئے تو بڑے شہروں کے بچوں نے لیپ ٹاپ اور موبائل فون پر کلاسیں لینا شروع کر دیں، مگر مانسہرہ کے ایک پہاڑی گاؤں کے بچوں کے لیے یہ آسان نہ تھا۔ گاؤں میں موبائل سگنل صرف ایک ٹیلے پر آتا تھا، اس لیے طالب علم شام کو وہاں جمع ہو کر سبق ڈاؤن لوڈ کرتے۔ اکثر گھروں میں ایک ہی فون تھا جو والد کام پر ساتھ لے جاتے، اور بجلی دن میں کئی گھنٹے غائب رہتی۔گاؤں کے سرکاری اسکول کی استانی شازیہ پروین کہتی ہیں کہ آن لائن تعلیم نے ان کی آنکھیں کھول دیں۔ "میں نے دیکھا کہ جو بچے کلاس میں خاموش رہتے تھے وہ ویڈیو دیکھ کر زیادہ سوال پوچھنے لگے۔ لیکن ٹیکنالوجی استاد کی جگہ نہیں لے سکتی؛ چھوٹے بچوں کو سامنے بیٹھا استاد چاہیے جو ان کی کاپی دیکھے اور حوصلہ دے۔" ان کے خیال میں بہترین طریقہ یہ ہے کہ کلاس روم کی پڑھائی کے ساتھ آن لائن مواد کو مددگار کے طور پر استعمال کیا جائے۔اب ایک غیر سرکاری ادارے نے اسکول میں سولر پینل اور دس ٹیبلٹ فراہم کیے ہیں، جن میں انٹرنیٹ کے بغیر چلنے والے اسباق پہلے سے محفوظ ہیں۔ شازیہ کا مشورہ ہے کہ حکومت دور دراز علاقوں میں موبائل ٹاور لگائے، اساتذہ کو ڈیجیٹل آلات کی تربیت دے اور اسباق اردو اور مقامی زبانوں میں بھی تیار کرے تاکہ ہر بچہ آسانی سے سمجھ سکے۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) غیر سرکاری ادارے نے اسکول کی مدد کے لیے کیا کیا؟ [1]
- (b) شازیہ پروین حکومت کو کیا مشورے دیتی ہیں؟ تین نکات لکھیے۔ [3]
Show answer
- (a) سولر پینل اور دس ٹیبلٹ دیے جن میں انٹرنیٹ کے بغیر چلنے والے اسباق محفوظ ہیں۔
1 نمبر: سولر پینل اور ٹیبلٹ (آف لائن اسباق کے ساتھ)۔
- (b) 1) دور دراز علاقوں میں موبائل ٹاور لگائے۔ 2) اساتذہ کو ڈیجیٹل آلات کی تربیت دے۔ 3) اسباق اردو اور مقامی زبانوں میں تیار کرے۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ تینوں مشورے۔
Q12Solutions, measures and advice · Standard · Paper 1 style · 4 marksاقتباس: شہد کی مکھیاں خطرے میںشہد کی مکھی صرف شہد ہی نہیں دیتی۔ جب وہ ایک پھول سے دوسرے پھول پر جاتی ہے تو اس کے جسم سے چپکے زردانے دوسرے پھول تک پہنچ جاتے ہیں۔ اسی عمل کو زیرگی کہتے ہیں اور اسی سے پھل اور بیج بنتے ہیں۔ سیب، بادام، سورج مکھی اور کئی سبزیوں کی اچھی پیداوار انہی ننھی مزدوروں کی مرہونِ منت ہے، اور دنیا کی خوراک کا ایک بڑا حصہ کسی نہ کسی طرح ان کیڑوں پر منحصر ہے۔مگر پچھلے کچھ برسوں سے کئی ملکوں سے خبریں آ رہی ہیں کہ شہد کی مکھیوں کے چھتے خالی ہو رہے ہیں۔ سائنس دان اس کی کئی وجوہات بتاتے ہیں۔ فصلوں پر چھڑکی جانے والی کچھ زہریلی کیڑے مار دوائیں مکھیوں کا راستہ پہچاننے کا نظام خراب کر دیتی ہیں اور وہ چھتے تک واپس نہیں پہنچ پاتیں۔ جنگلی پودوں اور جھاڑیوں کو کاٹ کر ایک ہی فصل کے بڑے بڑے کھیت بنا دیے گئے ہیں، اس لیے مکھیوں کو سال بھر مختلف پھول نہیں ملتے۔ موسم کی تبدیلی سے پھول کھلنے کا وقت بدل گیا ہے، اور ایک ننھا طفیلی کیڑا، واروا مائٹ، چھتوں میں بیماریاں پھیلاتا ہے۔چکوال میں شہد کی مکھیاں پالنے والے مشتاق اعوان کا کہنا ہے کہ جن برسوں میں قریبی کھیتوں پر زیادہ اسپرے ہوا، ان کے چھتوں میں شہد آدھا رہ گیا۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ کسان اسپرے صبح سویرے یا شام کو کریں جب مکھیاں باہر نہ ہوں، کھیتوں کے کناروں پر جنگلی پھولوں کی پٹیاں چھوڑی جائیں اور زہریلی دواؤں کی جگہ قدرتی طریقے اپنائے جائیں۔ شہروں میں بھی لوگ اپنی بالکونی میں پھول دار پودے لگا کر ان کی مدد کر سکتے ہیں۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) شہد کی مکھیوں کو بچانے کے لیے کسانوں اور شہریوں کو کیا کرنا چاہیے؟ چار نکات لکھیے۔ [4]
Show answer
- (a) 1) کسان اسپرے صبح سویرے یا شام کو کریں جب مکھیاں باہر نہ ہوں۔ 2) کھیتوں کے کناروں پر جنگلی پھولوں کی پٹیاں چھوڑیں۔ 3) زہریلی دواؤں کی جگہ قدرتی طریقے اپنائیں۔ 4) شہری بالکونی میں پھول دار پودے لگائیں۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ چاروں نکات۔
Q13Solutions, measures and advice · Challenge · Paper 1 style · 5 marksاقتباس: لاہور کی سموگنومبر کے آتے ہی لاہور کا آسمان سرمئی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ صبح کے وقت سڑک پر چند میٹر سے آگے دکھائی نہیں دیتا اور گاڑیاں دن میں بھی روشنیاں جلا کر چلتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس دھند نما آلودگی، یعنی سموگ، کی کئی وجوہات ہیں۔ شہر میں لاکھوں گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں روزانہ دھواں چھوڑتی ہیں، اینٹوں کے پرانے بھٹے کوئلہ اور ربڑ جلاتے ہیں، اور آس پاس کے دیہات میں دھان کی فصل کاٹنے کے بعد کسان بچی ہوئی پرالی کو آگ لگا دیتے ہیں۔ سردیوں میں ہوا رک جاتی ہے، اس لیے یہ دھواں زمین کے قریب ہی جمع رہتا ہے۔شہر کے ایک بڑے ہسپتال کے ڈاکٹر نے بتایا کہ ان دنوں سانس اور آنکھوں کی تکلیف کے مریض دوگنے ہو جاتے ہیں۔ دمے کے مریضوں اور بزرگوں کی حالت زیادہ بگڑتی ہے، بچوں کو کھانسی اور گلے کی سوزش ہو جاتی ہے اور کئی بار اسکول بند کرنے پڑتے ہیں۔ دھند کی وجہ سے موٹروے پر حادثات بھی بڑھ جاتے ہیں اور پروازیں تاخیر کا شکار ہوتی ہیں۔ماحولیات کے محکمے کا کہنا ہے کہ بھٹوں کو نئی "زگ زیگ" ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جا رہا ہے جس سے دھواں کم نکلتا ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ کسانوں کو پرالی جلانے کے بجائے اسے کھاد یا جانوروں کے چارے میں بدلنے والی مشینیں سستے داموں دی جائیں، شہر میں سرکاری بسوں کی تعداد بڑھائی جائے اور سڑکوں کے کنارے زیادہ درخت لگائے جائیں۔ شہریوں کو بھی چاہیے کہ ان دنوں باہر نکلتے وقت ماسک پہنیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) سموگ کم کرنے کے لیے حکومت، ماہرین اور شہریوں کی طرف سے کون سے اقدامات بتائے گئے ہیں؟ پانچ نکات لکھیے اور ہر نکتے کے ساتھ یہ بھی لکھیے کہ یہ قدم کون اٹھائے گا۔ [5]
Show answer
- (a) 1) بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنا (محکمۂ ماحولیات)۔ 2) پرالی کو کھاد یا چارے میں بدلنے والی مشینیں کسانوں کو سستی دینا (ماہرین کی تجویز/حکومت)۔ 3) سرکاری بسوں کی تعداد بڑھانا (حکومت)۔ 4) سڑکوں کے کنارے زیادہ درخت لگانا (ماہرین کی تجویز)۔ 5) شہری ماسک پہنیں اور غیر ضروری سفر نہ کریں (شہری)۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ پانچ نکات، ہر ایک پر 1 نمبر؛ اقدام اور ذمہ دار دونوں درست ہوں تو نمبر دیں۔
Q14Solutions, measures and advice · Challenge · Paper 1 style · 6 marksاقتباس: کوئٹہ کی سوکھتی کاریزیںکوئٹہ کو کبھی "پھلوں کی ٹوکری" کہا جاتا تھا۔ یہاں کے باغوں میں سیب، انگور اور خوبانی کی بہار ہوتی تھی اور صدیوں پرانی کاریزیں پہاڑوں کا پانی کھیتوں تک پہنچاتی تھیں۔ آج ان میں سے بیشتر کاریزیں سوکھ چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ زمین سے پانی نکالنے کے لیے ہزاروں ٹیوب ویل لگا دیے گئے ہیں جو بارش سے بھرنے والے پانی سے کہیں زیادہ پانی کھینچ لیتے ہیں۔ شہر کی آبادی کئی گنا بڑھ گئی ہے، بارشیں پہلے سے کم اور بے ترتیب ہو گئی ہیں، اور پرانی پائپ لائنوں سے بہت سا پانی راستے ہی میں ضائع ہو جاتا ہے۔ستر سالہ کسان حاجی عبدالرحمان کہتے ہیں: "میرے بچپن میں کاریز کا پانی سال بھر بہتا تھا۔ ہم پانی کو اللہ کی امانت سمجھتے تھے اور باری کے مطابق بانٹتے تھے۔ آج ہر شخص اپنا ٹیوب ویل لگا کر جتنا چاہے پانی نکال لیتا ہے، کسی کو آنے والی نسل کی فکر نہیں۔" ان کا خیال ہے کہ اگر یہی حال رہا تو ان کے پوتے کھیتی باڑی چھوڑ کر شہر میں مزدوری کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔پانی کے ماہر انجینئر فرحان کاکڑ تجویز دیتے ہیں کہ پہاڑی نالوں پر چھوٹے ڈیم بنائے جائیں تاکہ بارش کا پانی رک کر زمین میں جذب ہو اور زیرِ زمین ذخیرہ دوبارہ بھر سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسانوں کو کھلے کھیت میں پانی چھوڑنے کے بجائے ڈرپ یعنی قطرہ قطرہ آبپاشی اپنانی چاہیے، اور نئے ٹیوب ویلوں کے لیے لائسنس لازمی کیا جائے۔ وہ گھروں میں چھتوں سے بارش کا پانی جمع کرنے کا مشورہ بھی دیتے ہیں۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) انجینئر فرحان کاکڑ نے پانی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے کون سی تجاویز دی ہیں؟ چار نکات لکھیے۔ [4]
- (b) ان میں سے کون سی تجویز پہلے پیراگراف میں بیان کی گئی سب سے بڑی وجہ کا براہِ راست جواب ہے؟ وضاحت کیجیے۔ [2]
Show answer
- (a) 1) پہاڑی نالوں پر چھوٹے ڈیم بنائے جائیں تاکہ بارش کا پانی زمین میں جذب ہو کر زیرِ زمین ذخیرہ بھرے۔ 2) کسان ڈرپ (قطرہ قطرہ) آبپاشی اپنائیں۔ 3) نئے ٹیوب ویلوں کے لیے لائسنس لازمی ہو۔ 4) گھروں میں چھتوں سے بارش کا پانی جمع کیا جائے۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ چاروں تجاویز۔
- (b) نئے ٹیوب ویلوں کے لیے لائسنس (یا چھوٹے ڈیم)؛ کیونکہ سب سے بڑی وجہ ٹیوب ویلوں کا حد سے زیادہ پانی کھینچنا ہے — لائسنس سے یہ کھنچائی محدود ہوگی / ڈیم زیرِ زمین ذخیرہ دوبارہ بھریں گے۔
1 نمبر درست تجویز کے انتخاب پر (لائسنس یا ڈیم)، 1 نمبر وجہ کو اقتباس کی بڑی وجہ (ٹیوب ویلوں کا زیادہ پانی کھینچنا) سے جوڑنے پر۔
Q15Solutions, measures and advice · Challenge · Paper 1 style · 5 marksاقتباس: شادیوں میں کھانے کا ضیاعپاکستان میں شادی کی تقریبات میں کھانے کی میز کسی میلے سے کم نہیں ہوتی۔ بریانی، قورمہ، کباب، تکے، حلوے اور کھیر کی درجنوں ڈشیں سجائی جاتی ہیں۔ مگر تقریب ختم ہونے کے بعد پلیٹوں میں بچا ہوا کھانا دیکھیں تو دل دکھتا ہے۔ ایک غیر سرکاری تنظیم کے سروے کے مطابق بڑی تقریبات میں پکنے والے کھانے کا تقریباً ایک تہائی حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ مہمان ایک ساتھ کئی ڈشیں پلیٹ میں ڈال لیتے ہیں اور آدھی چھوڑ دیتے ہیں، جبکہ میزبان اس ڈر سے ضرورت سے زیادہ کھانا پکواتے ہیں کہ کہیں کم نہ پڑ جائے اور برادری میں باتیں نہ ہوں۔اسلام آباد کے ایک شادی ہال کے منیجر طارق محمود بتاتے ہیں کہ ہر رات کئی دیگیں بچ جاتی ہیں۔ "پہلے یہ کھانا کچرے میں جاتا تھا اور مجھے بہت افسوس ہوتا تھا۔ اب ہم نے ایک فوڈ بینک سے رابطہ کیا ہے جو رات گیارہ بجے گاڑی بھیج کر صاف بچا ہوا کھانا لے جاتا ہے اور قریبی بستیوں میں بانٹ دیتا ہے۔" ان کا کہنا ہے کہ بہت سے مہمان اب خود پوچھتے ہیں کہ بچا ہوا کھانا کہاں جائے گا، اور یہ تبدیلی انہیں امید دلاتی ہے۔غذائی ماہر ڈاکٹر رابعہ قریشی کے نزدیک یہ صرف کھانے کا ضیاع نہیں بلکہ اس پانی، بجلی، گیس اور محنت کا بھی ضیاع ہے جو اسے اگانے اور پکانے میں لگی۔ وہ مشورہ دیتی ہیں کہ ڈشوں کی تعداد محدود کی جائے، پلیٹ میں تھوڑا کھانا ڈال کر ضرورت ہو تو دوبارہ لیا جائے، اور مہمانوں کی صحیح تعداد معلوم کر کے کھانا پکوایا جائے۔ ان کے خیال میں یہ پیغام بچوں تک پہنچانا سب سے ضروری ہے، کیونکہ عادتیں بچپن میں بنتی ہیں۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) ڈاکٹر رابعہ قریشی کھانے کے ضیاع کو کیوں سنگین سمجھتی ہیں؟ [1]
- (b) اقتباس میں کھانے کا ضیاع کم کرنے کے لیے جو اقدامات اور مشورے دیے گئے ہیں، ان میں سے چار لکھیے۔ [4]
Show answer
- (a) کیونکہ اس کے ساتھ وہ پانی، بجلی، گیس اور محنت بھی ضائع ہوتی ہے جو کھانا اگانے اور پکانے میں لگی۔
1 نمبر۔
- (b) 1) ڈشوں کی تعداد محدود کی جائے۔ 2) پلیٹ میں تھوڑا کھانا ڈالیں، ضرورت ہو تو دوبارہ لیں۔ 3) مہمانوں کی صحیح تعداد معلوم کر کے کھانا پکوایا جائے۔ 4) یہ پیغام بچوں تک پہنچایا جائے۔ 5) بچا ہوا صاف کھانا فوڈ بینک کو دیا جائے۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ کوئی چار۔
Q16Solutions, measures and advice · Challenge · Paper 1 style · 6 marksاقتباس: جاپان اور زلزلےجاپان دنیا کے ان ملکوں میں سے ہے جہاں سب سے زیادہ زلزلے آتے ہیں۔ یہاں ہر سال سیکڑوں جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں، مگر بڑے زلزلوں میں بھی جانی نقصان اکثر توقع سے بہت کم رہتا ہے۔ اس کی وجہ برسوں کی تیاری ہے۔ ٹوکیو کی اونچی عمارتیں ایسی بنیادوں پر کھڑی کی جاتی ہیں جو جھٹکوں کو جذب کر لیتی ہیں، اور تعمیر کے قوانین پر سختی سے عمل ہوتا ہے۔ زلزلے کی شدید لہریں پہنچنے سے چند سیکنڈ پہلے ہی موبائل فونوں، ٹی وی اور ٹرینوں کو خودکار وارننگ مل جاتی ہے، اور تیز رفتار ٹرینیں خود بخود رکنا شروع کر دیتی ہیں۔ہر سال یکم ستمبر کو ملک بھر میں آفات سے بچاؤ کا دن منایا جاتا ہے۔ اسکولوں میں بچے مشق کرتے ہیں کہ جھٹکا محسوس ہوتے ہی میز کے نیچے چھپ جائیں، سر کو بازوؤں سے ڈھانپیں اور پھر قطار بنا کر کھلے میدان میں جمع ہوں۔ ٹوکیو میں پڑھنے والی پاکستانی طالبہ مہوش ملک بتاتی ہیں: "پہلی بار جب کمرہ ہلا تو میں چیخ پڑی، لیکن میری جاپانی ہم جماعت بالکل پرسکون تھی۔ اس نے کہا کہ گھبراہٹ سب سے بڑا خطرہ ہے۔ یہاں سب کو معلوم ہے کہ کیا کرنا ہے، اس لیے کوئی بھگدڑ نہیں مچتی۔" مہوش کے خیال میں پاکستان کو اس نظم و ضبط سے بہت کچھ سیکھنا چاہیے، خاص طور پر اسکولوں میں باقاعدہ مشقیں کروانی چاہییں۔جاپانی ماہرین ہر گھر کو مشورہ دیتے ہیں کہ ایک ہنگامی تھیلا تیار رکھیں جس میں تین دن کا پانی، خشک خوراک، ٹارچ، دوائیں اور ضروری کاغذات ہوں۔ بھاری الماریوں کو دیوار کے ساتھ کس دیا جائے اور خاندان پہلے سے طے کر لے کہ بچھڑ جانے کی صورت میں کس جگہ ملنا ہے۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) زلزلے کے وقت بچوں کو اسکول میں کیا کرنا سکھایا جاتا ہے؟ ترتیب سے تین مراحل لکھیے۔ [3]
- (b) ماہرین گھروں کو زلزلے کی تیاری کے لیے کیا مشورے دیتے ہیں؟ تین نکات لکھیے۔ [3]
Show answer
- (a) 1) جھٹکا محسوس ہوتے ہی میز کے نیچے چھپ جائیں۔ 2) سر کو بازوؤں سے ڈھانپیں۔ 3) پھر قطار بنا کر کھلے میدان میں جمع ہوں۔
ہر مرحلے پر 1 نمبر؛ ترتیب درست ہونی چاہیے۔
- (b) 1) ہنگامی تھیلا تیار رکھیں جس میں تین دن کا پانی، خشک خوراک، ٹارچ، دوائیں اور کاغذات ہوں۔ 2) بھاری الماریاں دیوار کے ساتھ کس دیں۔ 3) خاندان پہلے سے ملنے کی جگہ طے کر لے۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ تینوں مشورے؛ تھیلے کی چیزیں الگ الگ گن کر زیادہ نمبر نہیں۔
Q17Reasons and causes · Core · Paper 1 style · 3 marksاقتباس: کراچی کا ساحل اور پلاسٹککراچی کا ساحل کبھی شہریوں کی سب سے پسندیدہ تفریح گاہ تھا، مگر آج سی ویو پر چلتے ہوئے قدم قدم پر پلاسٹک کی بوتلیں، چپس کے خالی پیکٹ اور رنگ برنگے تھیلے نظر آتے ہیں۔ پچھلے بیس برسوں میں شہر کی آبادی تیزی سے بڑھی ہے اور ہر دکان پر سودا پلاسٹک کے تھیلوں میں دیا جانے لگا ہے، کیونکہ یہ سستے اور ہلکے ہوتے ہیں۔ چھٹی کے دن ہزاروں لوگ ساحل پر آتے ہیں، لیکن کوڑا دان بہت کم ہیں اور جو ہیں وہ اکثر بھرے رہتے ہیں۔ بارش کے موسم میں شہر کے نالے بھی یہی کچرا بہا کر سمندر تک لے آتے ہیں۔سمندری حیات کی ماہر ڈاکٹر ثمینہ بلوچ کہتی ہیں کہ پلاسٹک کا ایک تھیلا سیکڑوں برس تک ختم نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق سمندری کچھوے پانی میں تیرتے تھیلوں کو جیلی فش سمجھ کر نگل لیتے ہیں اور ان کا معدہ بند ہو جاتا ہے۔ وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ پلاسٹک کے باریک ذرات مچھلیوں کے جسم میں پہنچ کر آخرکار ہماری خوراک کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان کی رائے میں یہ مسئلہ صرف حکومت کا نہیں بلکہ ہر شہری کا ہے۔ساحل کے قریب چائے کا ڈھابا چلانے والے نواز خان نے اپنے گاہکوں کو کپڑے کے تھیلے دینا شروع کیے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: "اگر ہر دکاندار پلاسٹک کے بجائے کاغذ یا کپڑے کا تھیلا دے تو آدھا مسئلہ حل ہو جائے۔" مقامی طلبہ کی ایک تنظیم ہر مہینے کے پہلے اتوار کو ساحل کی صفائی کرتی ہے۔ تنظیم کی سربراہ عائشہ کا مشورہ ہے کہ اسکولوں میں بچوں کو کچرا الگ الگ کرنے کی تربیت دی جائے اور ساحل پر ہر سو قدم کے فاصلے پر کوڑا دان رکھا جائے۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) پہلے پیراگراف کے مطابق کراچی کے ساحل پر پلاسٹک کا کچرا کیوں بڑھ گیا ہے؟ تین وجوہات لکھیے۔ [3]
Show answer
- (a) 1) شہر کی آبادی تیزی سے بڑھی ہے۔ 2) دکاندار سودا سستے اور ہلکے پلاسٹک کے تھیلوں میں دیتے ہیں۔ 3) چھٹی کے دن ہزاروں لوگ آتے ہیں مگر کوڑا دان کم ہیں یا بھرے رہتے ہیں۔ 4) بارش میں نالے کچرا بہا کر سمندر تک لے آتے ہیں۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ کوئی تین نکات: آبادی میں اضافہ؛ سستے/ہلکے تھیلوں کا عام استعمال؛ زیادہ لوگ اور کم یا بھرے کوڑا دان؛ بارش میں نالوں کا کچرا سمندر میں لانا۔
Q18Reasons and causes · Core · Paper 1 style · 4 marksاقتباس: کوئٹہ کی سوکھتی کاریزیںکوئٹہ کو کبھی "پھلوں کی ٹوکری" کہا جاتا تھا۔ یہاں کے باغوں میں سیب، انگور اور خوبانی کی بہار ہوتی تھی اور صدیوں پرانی کاریزیں پہاڑوں کا پانی کھیتوں تک پہنچاتی تھیں۔ آج ان میں سے بیشتر کاریزیں سوکھ چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ زمین سے پانی نکالنے کے لیے ہزاروں ٹیوب ویل لگا دیے گئے ہیں جو بارش سے بھرنے والے پانی سے کہیں زیادہ پانی کھینچ لیتے ہیں۔ شہر کی آبادی کئی گنا بڑھ گئی ہے، بارشیں پہلے سے کم اور بے ترتیب ہو گئی ہیں، اور پرانی پائپ لائنوں سے بہت سا پانی راستے ہی میں ضائع ہو جاتا ہے۔ستر سالہ کسان حاجی عبدالرحمان کہتے ہیں: "میرے بچپن میں کاریز کا پانی سال بھر بہتا تھا۔ ہم پانی کو اللہ کی امانت سمجھتے تھے اور باری کے مطابق بانٹتے تھے۔ آج ہر شخص اپنا ٹیوب ویل لگا کر جتنا چاہے پانی نکال لیتا ہے، کسی کو آنے والی نسل کی فکر نہیں۔" ان کا خیال ہے کہ اگر یہی حال رہا تو ان کے پوتے کھیتی باڑی چھوڑ کر شہر میں مزدوری کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔پانی کے ماہر انجینئر فرحان کاکڑ تجویز دیتے ہیں کہ پہاڑی نالوں پر چھوٹے ڈیم بنائے جائیں تاکہ بارش کا پانی رک کر زمین میں جذب ہو اور زیرِ زمین ذخیرہ دوبارہ بھر سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسانوں کو کھلے کھیت میں پانی چھوڑنے کے بجائے ڈرپ یعنی قطرہ قطرہ آبپاشی اپنانی چاہیے، اور نئے ٹیوب ویلوں کے لیے لائسنس لازمی کیا جائے۔ وہ گھروں میں چھتوں سے بارش کا پانی جمع کرنے کا مشورہ بھی دیتے ہیں۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) پہلے پیراگراف کے مطابق کوئٹہ میں پانی کی کمی کی وجوہات کیا ہیں؟ چار نکات لکھیے۔ [4]
Show answer
- (a) 1) ہزاروں ٹیوب ویل بارش سے بھرنے والے پانی سے زیادہ پانی کھینچ لیتے ہیں۔ 2) آبادی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ 3) بارشیں کم اور بے ترتیب ہو گئی ہیں۔ 4) پرانی پائپ لائنوں سے پانی راستے میں ضائع ہوتا ہے۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ چاروں وجوہات۔
Q19Reasons and causes · Core · Paper 1 style · 3 marksاقتباس: صحرا میں شمسی روشنیتھرپارکر کے صحرا میں بسنے والی کئی بستیوں میں کچھ برس پہلے تک سورج ڈھلتے ہی اندھیرا چھا جاتا تھا۔ قومی گرڈ کی بجلی یہاں تک نہیں پہنچی تھی، کیونکہ گھر ریت کے ٹیلوں میں دور دور بکھرے ہوئے ہیں اور ہر گھر تک کھمبے اور تار لے جانا بہت مہنگا تھا۔ لوگ مٹی کے تیل کے دیے جلاتے تھے جن کا دھواں آنکھوں اور پھیپھڑوں کے لیے نقصان دہ تھا۔ دوسری طرف اس صحرا میں سال کے بیشتر دن تیز دھوپ نکلتی ہے، اسی لیے یہاں شمسی توانائی سب سے موزوں حل سمجھی گئی۔اب بیشتر گھروں کی چھتوں پر چھوٹے سولر پینل لگے ہیں۔ ان سے دو بلب، ایک پنکھا اور موبائل فون چارج کرنے کا انتظام ہو جاتا ہے۔ بچے رات کو پڑھ سکتے ہیں، عورتیں شام کو کڑھائی کر کے کچھ آمدنی کما لیتی ہیں اور گاؤں کے کنویں پر سولر پمپ لگنے سے پانی کھینچنے کی مشقت بہت کم ہو گئی ہے۔ مٹی کے تیل پر ہر مہینے خرچ ہونے والی رقم بھی بچ جاتی ہے۔اس منصوبے پر کام کرنے والی انجینئر ماروی میگھواڑ کہتی ہیں کہ سولر پینل لگانا آسان ہے، انہیں چلائے رکھنا مشکل۔ "ریت کے طوفان پینلوں پر گرد کی تہہ جما دیتے ہیں اور بیٹریاں چند سال میں جواب دے دیتی ہیں۔ اگر گاؤں ہی کے نوجوانوں کو مرمت کا ہنر سکھایا جائے تو یہ نظام برسوں چل سکتا ہے۔" ان کے نزدیک اصل کامیابی بجلی نہیں بلکہ وہ اعتماد ہے جو ان بستیوں کے لوگوں میں پیدا ہوا ہے۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) تھرپارکر کی بستیوں میں قومی گرڈ کی بجلی کیوں نہیں پہنچی تھی، اور شمسی توانائی کو موزوں کیوں سمجھا گیا؟ تین نکات لکھیے۔ [3]
Show answer
- (a) 1) گھر ریت کے ٹیلوں میں دور دور بکھرے ہوئے ہیں۔ 2) ہر گھر تک کھمبے اور تار لے جانا بہت مہنگا تھا۔ 3) صحرا میں سال کے بیشتر دن تیز دھوپ نکلتی ہے، اس لیے شمسی توانائی موزوں تھی۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ پہلے دو نکات گرڈ نہ پہنچنے کی وجہ، تیسرا شمسی توانائی کی وجہ۔
Q20Reasons and causes · Standard · Paper 1 style · 4 marksاقتباس: لاہور کی سموگنومبر کے آتے ہی لاہور کا آسمان سرمئی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ صبح کے وقت سڑک پر چند میٹر سے آگے دکھائی نہیں دیتا اور گاڑیاں دن میں بھی روشنیاں جلا کر چلتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس دھند نما آلودگی، یعنی سموگ، کی کئی وجوہات ہیں۔ شہر میں لاکھوں گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں روزانہ دھواں چھوڑتی ہیں، اینٹوں کے پرانے بھٹے کوئلہ اور ربڑ جلاتے ہیں، اور آس پاس کے دیہات میں دھان کی فصل کاٹنے کے بعد کسان بچی ہوئی پرالی کو آگ لگا دیتے ہیں۔ سردیوں میں ہوا رک جاتی ہے، اس لیے یہ دھواں زمین کے قریب ہی جمع رہتا ہے۔شہر کے ایک بڑے ہسپتال کے ڈاکٹر نے بتایا کہ ان دنوں سانس اور آنکھوں کی تکلیف کے مریض دوگنے ہو جاتے ہیں۔ دمے کے مریضوں اور بزرگوں کی حالت زیادہ بگڑتی ہے، بچوں کو کھانسی اور گلے کی سوزش ہو جاتی ہے اور کئی بار اسکول بند کرنے پڑتے ہیں۔ دھند کی وجہ سے موٹروے پر حادثات بھی بڑھ جاتے ہیں اور پروازیں تاخیر کا شکار ہوتی ہیں۔ماحولیات کے محکمے کا کہنا ہے کہ بھٹوں کو نئی "زگ زیگ" ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جا رہا ہے جس سے دھواں کم نکلتا ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ کسانوں کو پرالی جلانے کے بجائے اسے کھاد یا جانوروں کے چارے میں بدلنے والی مشینیں سستے داموں دی جائیں، شہر میں سرکاری بسوں کی تعداد بڑھائی جائے اور سڑکوں کے کنارے زیادہ درخت لگائے جائیں۔ شہریوں کو بھی چاہیے کہ ان دنوں باہر نکلتے وقت ماسک پہنیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) پہلے پیراگراف کی روشنی میں بتائیے کہ لاہور میں سموگ کیوں پیدا ہوتی ہے۔ چار وجوہات لکھیے۔ [4]
Show answer
- (a) 1) لاکھوں گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں دھواں چھوڑتی ہیں۔ 2) اینٹوں کے پرانے بھٹے کوئلہ اور ربڑ جلاتے ہیں۔ 3) دیہات میں کسان دھان کی پرالی کو آگ لگاتے ہیں۔ 4) سردیوں میں ہوا رک جاتی ہے اس لیے دھواں زمین کے قریب جمع رہتا ہے۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ چاروں وجوہات۔ چوتھا نکتہ (ہوا کا رک جانا) اکثر چھوٹ جاتا ہے، اسے لازماً شامل کیا جائے۔
Q21Reasons and causes · Standard · Paper 1 style · 4 marksاقتباس: محلے کی لائبریریملتان کے ایک پرانے محلے میں "دارالمطالعہ" نام کی چھوٹی سی لائبریری ساٹھ برس سے قائم ہے۔ کبھی یہاں شام کو بیٹھنے کی جگہ نہیں ملتی تھی؛ لوگ اخبار پڑھنے، ناول لینے اور بحث کرنے آتے تھے۔ اب اکثر کرسیاں خالی رہتی ہیں۔ لائبریری کے نگران کہتے ہیں کہ نوجوانوں کا وقت اب موبائل فون کی اسکرین لے گئی ہے اور مختصر ویڈیوز دیکھنے کی عادت نے لمبی تحریر پڑھنے کا صبر ختم کر دیا ہے۔ کتابیں مہنگی ہو گئی ہیں، اسکولوں میں نصاب کے علاوہ پڑھنے کی حوصلہ افزائی کم ہوتی ہے اور بہت سے والدین خود بھی کتاب ہاتھ میں نہیں لیتے، اس لیے بچوں کے سامنے کوئی مثال نہیں ہوتی۔لائبریری کی پرانی رکن، ریٹائرڈ پروفیسر نسرین اختر، کا کہنا ہے کہ کتاب پڑھنا ذہن کی ورزش ہے۔ "کہانی پڑھتے ہوئے بچہ خود منظر بناتا ہے، اس کا تخیل بڑھتا ہے اور وہ دوسروں کے دکھ سکھ کو سمجھنا سیکھتا ہے۔ اسکرین سب کچھ تیار کر کے دے دیتی ہے، سوچنے کا موقع نہیں دیتی۔" ان کی رائے میں ڈیجیٹل کتاب بری نہیں، اصل بات پڑھنے کی عادت ہے، چاہے کاغذ پر ہو یا فون پر۔پچھلے سال محلے کے چند نوجوانوں نے لائبریری میں ہر ہفتے "کہانی کی شام" شروع کی۔ بچے آ کر کہانیاں سنتے ہیں اور پھر خود سناتے ہیں۔ اب تیس سے زیادہ بچے باقاعدہ رکن بن چکے ہیں، کچھ والدین بھی ان کے ساتھ آنے لگے ہیں، اور ایک مقامی تاجر نے نئی کتابوں کے لیے الماری عطیہ کی ہے۔ نگران مسکرا کر کہتے ہیں کہ شاید یہ کرسیاں پھر سے بھرنے لگیں۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) لائبریری کے نگران کے مطابق لوگوں میں کتاب پڑھنے کا شوق کیوں کم ہوا ہے؟ چار وجوہات لکھیے۔ [4]
Show answer
- (a) 1) نوجوانوں کا وقت موبائل اسکرین لے گئی ہے۔ 2) مختصر ویڈیوز کی عادت نے لمبی تحریر پڑھنے کا صبر ختم کر دیا۔ 3) کتابیں مہنگی ہو گئی ہیں۔ 4) اسکولوں میں نصاب سے باہر پڑھنے کی حوصلہ افزائی کم ہے۔ 5) والدین خود نہیں پڑھتے، اس لیے بچوں کے سامنے مثال نہیں۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ کوئی چار۔
Q22Reasons and causes · Standard · Paper 1 style · 3 marksاقتباس: موبائل فون اور نیندرات کے دو بج رہے ہیں اور سولہ سالہ حمزہ کے کمرے کی بتی بجھی ہوئی ہے، مگر اس کے چہرے پر موبائل اسکرین کی نیلی روشنی پڑ رہی ہے۔ وہ "بس ایک اور ویڈیو" کہتے ہوئے گھنٹہ گزار چکا ہے۔ صبح اسکول میں اس کی آنکھیں بوجھل ہوں گی۔ ماہرین کے مطابق حمزہ اکیلا نہیں؛ دنیا بھر میں نوجوانوں کی بڑی تعداد ضرورت سے کم سو رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسکرین کی نیلی روشنی دماغ کو دن کا اشارہ دیتی ہے اور نیند لانے والا ہارمون، میلاٹونن، کم بنتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بہت سی ایپس اس طرح بنائی جاتی ہیں کہ ایک ویڈیو ختم ہوتے ہی دوسری شروع ہو جائے، اس لیے رکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پھر دوستوں کے پیغامات کا فوراً جواب نہ دینے کا ڈر بھی بچوں کو جگائے رکھتا ہے۔پشاور کی ماہرِ امراضِ اطفال ڈاکٹر گل نسا کہتی ہیں کہ نوعمروں کو روزانہ آٹھ سے دس گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ "نیند پوری نہ ہو تو یادداشت کمزور پڑتی ہے، مزاج چڑچڑا ہو جاتا ہے اور وزن بڑھنے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ میں والدین سے کہتی ہوں کہ موبائل کو دشمن نہ سمجھیں، مگر اسے بچے کے بستر کا ساتھی بھی نہ بننے دیں۔" ان کے مطابق بچے وہی کرتے ہیں جو بڑوں کو کرتے دیکھتے ہیں، اس لیے پہلے والدین کو اپنی عادت بدلنی ہوگی۔ڈاکٹر گل نسا کا مشورہ ہے کہ سونے سے ایک گھنٹہ پہلے تمام اسکرینیں بند کر دی جائیں اور فون رات کو کمرے سے باہر چارج کیا جائے۔ گھر میں سونے اور جاگنے کا ایک وقت مقرر ہو، چاہے چھٹی کا دن ہی کیوں نہ ہو۔ وہ کہتی ہیں کہ رات کو اسکرین کے بجائے کتاب پڑھنا یا گھر والوں سے ہلکی پھلکی بات چیت کرنا نیند کے لیے بہترین ہے۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) اقتباس کے مطابق نوجوان رات کو دیر تک کیوں جاگتے ہیں؟ تین وجوہات لکھیے۔ [3]
Show answer
- (a) 1) اسکرین کی نیلی روشنی دماغ کو دن کا اشارہ دیتی ہے اور نیند کا ہارمون میلاٹونن کم بنتا ہے۔ 2) ایپس میں ایک ویڈیو ختم ہوتے ہی دوسری شروع ہو جاتی ہے، اس لیے رکنا مشکل ہے۔ 3) دوستوں کے پیغامات کا فوراً جواب نہ دینے کا ڈر۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ تینوں وجوہات۔
Q23Reasons and causes · Challenge · Paper 1 style · 4 marksاقتباس: شہد کی مکھیاں خطرے میںشہد کی مکھی صرف شہد ہی نہیں دیتی۔ جب وہ ایک پھول سے دوسرے پھول پر جاتی ہے تو اس کے جسم سے چپکے زردانے دوسرے پھول تک پہنچ جاتے ہیں۔ اسی عمل کو زیرگی کہتے ہیں اور اسی سے پھل اور بیج بنتے ہیں۔ سیب، بادام، سورج مکھی اور کئی سبزیوں کی اچھی پیداوار انہی ننھی مزدوروں کی مرہونِ منت ہے، اور دنیا کی خوراک کا ایک بڑا حصہ کسی نہ کسی طرح ان کیڑوں پر منحصر ہے۔مگر پچھلے کچھ برسوں سے کئی ملکوں سے خبریں آ رہی ہیں کہ شہد کی مکھیوں کے چھتے خالی ہو رہے ہیں۔ سائنس دان اس کی کئی وجوہات بتاتے ہیں۔ فصلوں پر چھڑکی جانے والی کچھ زہریلی کیڑے مار دوائیں مکھیوں کا راستہ پہچاننے کا نظام خراب کر دیتی ہیں اور وہ چھتے تک واپس نہیں پہنچ پاتیں۔ جنگلی پودوں اور جھاڑیوں کو کاٹ کر ایک ہی فصل کے بڑے بڑے کھیت بنا دیے گئے ہیں، اس لیے مکھیوں کو سال بھر مختلف پھول نہیں ملتے۔ موسم کی تبدیلی سے پھول کھلنے کا وقت بدل گیا ہے، اور ایک ننھا طفیلی کیڑا، واروا مائٹ، چھتوں میں بیماریاں پھیلاتا ہے۔چکوال میں شہد کی مکھیاں پالنے والے مشتاق اعوان کا کہنا ہے کہ جن برسوں میں قریبی کھیتوں پر زیادہ اسپرے ہوا، ان کے چھتوں میں شہد آدھا رہ گیا۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ کسان اسپرے صبح سویرے یا شام کو کریں جب مکھیاں باہر نہ ہوں، کھیتوں کے کناروں پر جنگلی پھولوں کی پٹیاں چھوڑی جائیں اور زہریلی دواؤں کی جگہ قدرتی طریقے اپنائے جائیں۔ شہروں میں بھی لوگ اپنی بالکونی میں پھول دار پودے لگا کر ان کی مدد کر سکتے ہیں۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) سائنس دانوں کے مطابق شہد کی مکھیوں کی تعداد کیوں کم ہو رہی ہے؟ چار وجوہات اپنے الفاظ میں لکھیے۔ [4]
Show answer
- (a) 1) زہریلی کیڑے مار دوائیں مکھیوں کا راستہ پہچاننے کا نظام خراب کر دیتی ہیں اور وہ چھتے تک نہیں لوٹ پاتیں۔ 2) جنگلی پودے کاٹ کر ایک ہی فصل کے کھیت بنانے سے سال بھر مختلف پھول نہیں ملتے۔ 3) موسم کی تبدیلی سے پھول کھلنے کا وقت بدل گیا ہے۔ 4) واروا مائٹ نامی طفیلی کیڑا چھتوں میں بیماریاں پھیلاتا ہے۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ چاروں وجوہات؛ محض نقل کے بجائے اپنے الفاظ ہوں تو بہتر، مگر مواد درست ہو تو نمبر دیں۔
Q24Facts, details and effects · Core · Paper 1 style · 5 marksاقتباس: لاہور کی سموگنومبر کے آتے ہی لاہور کا آسمان سرمئی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ صبح کے وقت سڑک پر چند میٹر سے آگے دکھائی نہیں دیتا اور گاڑیاں دن میں بھی روشنیاں جلا کر چلتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس دھند نما آلودگی، یعنی سموگ، کی کئی وجوہات ہیں۔ شہر میں لاکھوں گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں روزانہ دھواں چھوڑتی ہیں، اینٹوں کے پرانے بھٹے کوئلہ اور ربڑ جلاتے ہیں، اور آس پاس کے دیہات میں دھان کی فصل کاٹنے کے بعد کسان بچی ہوئی پرالی کو آگ لگا دیتے ہیں۔ سردیوں میں ہوا رک جاتی ہے، اس لیے یہ دھواں زمین کے قریب ہی جمع رہتا ہے۔شہر کے ایک بڑے ہسپتال کے ڈاکٹر نے بتایا کہ ان دنوں سانس اور آنکھوں کی تکلیف کے مریض دوگنے ہو جاتے ہیں۔ دمے کے مریضوں اور بزرگوں کی حالت زیادہ بگڑتی ہے، بچوں کو کھانسی اور گلے کی سوزش ہو جاتی ہے اور کئی بار اسکول بند کرنے پڑتے ہیں۔ دھند کی وجہ سے موٹروے پر حادثات بھی بڑھ جاتے ہیں اور پروازیں تاخیر کا شکار ہوتی ہیں۔ماحولیات کے محکمے کا کہنا ہے کہ بھٹوں کو نئی "زگ زیگ" ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جا رہا ہے جس سے دھواں کم نکلتا ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ کسانوں کو پرالی جلانے کے بجائے اسے کھاد یا جانوروں کے چارے میں بدلنے والی مشینیں سستے داموں دی جائیں، شہر میں سرکاری بسوں کی تعداد بڑھائی جائے اور سڑکوں کے کنارے زیادہ درخت لگائے جائیں۔ شہریوں کو بھی چاہیے کہ ان دنوں باہر نکلتے وقت ماسک پہنیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) اقتباس کے مطابق سموگ لوگوں کی صحت پر کیا اثرات ڈالتی ہے؟ تین نکات لکھیے۔ [3]
- (b) صحت کے علاوہ روزمرہ زندگی پر سموگ کے دو اثرات لکھیے۔ [2]
Show answer
- (a) 1) سانس اور آنکھوں کی تکلیف کے مریض دوگنے ہو جاتے ہیں۔ 2) دمے کے مریضوں اور بزرگوں کی حالت بگڑ جاتی ہے۔ 3) بچوں کو کھانسی اور گلے کی سوزش ہو جاتی ہے۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ تینوں صحت سے متعلق اثرات۔
- (b) اسکول بند کرنے پڑتے ہیں؛ موٹروے پر حادثات بڑھتے ہیں؛ پروازیں تاخیر کا شکار ہوتی ہیں؛ دن میں بھی گاڑیوں کو روشنیاں جلانی پڑتی ہیں (کوئی دو)۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ کوئی دو۔
Q25Facts, details and effects · Core · Paper 1 style · 3 marksاقتباس: پہاڑی گاؤں میں آن لائن تعلیمکورونا کی وبا کے دنوں میں جب اسکول بند ہوئے تو بڑے شہروں کے بچوں نے لیپ ٹاپ اور موبائل فون پر کلاسیں لینا شروع کر دیں، مگر مانسہرہ کے ایک پہاڑی گاؤں کے بچوں کے لیے یہ آسان نہ تھا۔ گاؤں میں موبائل سگنل صرف ایک ٹیلے پر آتا تھا، اس لیے طالب علم شام کو وہاں جمع ہو کر سبق ڈاؤن لوڈ کرتے۔ اکثر گھروں میں ایک ہی فون تھا جو والد کام پر ساتھ لے جاتے، اور بجلی دن میں کئی گھنٹے غائب رہتی۔گاؤں کے سرکاری اسکول کی استانی شازیہ پروین کہتی ہیں کہ آن لائن تعلیم نے ان کی آنکھیں کھول دیں۔ "میں نے دیکھا کہ جو بچے کلاس میں خاموش رہتے تھے وہ ویڈیو دیکھ کر زیادہ سوال پوچھنے لگے۔ لیکن ٹیکنالوجی استاد کی جگہ نہیں لے سکتی؛ چھوٹے بچوں کو سامنے بیٹھا استاد چاہیے جو ان کی کاپی دیکھے اور حوصلہ دے۔" ان کے خیال میں بہترین طریقہ یہ ہے کہ کلاس روم کی پڑھائی کے ساتھ آن لائن مواد کو مددگار کے طور پر استعمال کیا جائے۔اب ایک غیر سرکاری ادارے نے اسکول میں سولر پینل اور دس ٹیبلٹ فراہم کیے ہیں، جن میں انٹرنیٹ کے بغیر چلنے والے اسباق پہلے سے محفوظ ہیں۔ شازیہ کا مشورہ ہے کہ حکومت دور دراز علاقوں میں موبائل ٹاور لگائے، اساتذہ کو ڈیجیٹل آلات کی تربیت دے اور اسباق اردو اور مقامی زبانوں میں بھی تیار کرے تاکہ ہر بچہ آسانی سے سمجھ سکے۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) وبا کے دنوں میں گاؤں کے طالب علموں کو آن لائن تعلیم میں کن مشکلات کا سامنا تھا؟ تین نکات لکھیے۔ [3]
Show answer
- (a) 1) موبائل سگنل صرف ایک ٹیلے پر آتا تھا، اس لیے شام کو وہاں جا کر سبق ڈاؤن لوڈ کرنا پڑتا۔ 2) اکثر گھروں میں ایک ہی فون تھا جو والد کام پر لے جاتے۔ 3) بجلی دن میں کئی گھنٹے غائب رہتی۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ تینوں مشکلات۔
Q26Facts, details and effects · Core · Paper 1 style · 3 marksاقتباس: شادیوں میں کھانے کا ضیاعپاکستان میں شادی کی تقریبات میں کھانے کی میز کسی میلے سے کم نہیں ہوتی۔ بریانی، قورمہ، کباب، تکے، حلوے اور کھیر کی درجنوں ڈشیں سجائی جاتی ہیں۔ مگر تقریب ختم ہونے کے بعد پلیٹوں میں بچا ہوا کھانا دیکھیں تو دل دکھتا ہے۔ ایک غیر سرکاری تنظیم کے سروے کے مطابق بڑی تقریبات میں پکنے والے کھانے کا تقریباً ایک تہائی حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ مہمان ایک ساتھ کئی ڈشیں پلیٹ میں ڈال لیتے ہیں اور آدھی چھوڑ دیتے ہیں، جبکہ میزبان اس ڈر سے ضرورت سے زیادہ کھانا پکواتے ہیں کہ کہیں کم نہ پڑ جائے اور برادری میں باتیں نہ ہوں۔اسلام آباد کے ایک شادی ہال کے منیجر طارق محمود بتاتے ہیں کہ ہر رات کئی دیگیں بچ جاتی ہیں۔ "پہلے یہ کھانا کچرے میں جاتا تھا اور مجھے بہت افسوس ہوتا تھا۔ اب ہم نے ایک فوڈ بینک سے رابطہ کیا ہے جو رات گیارہ بجے گاڑی بھیج کر صاف بچا ہوا کھانا لے جاتا ہے اور قریبی بستیوں میں بانٹ دیتا ہے۔" ان کا کہنا ہے کہ بہت سے مہمان اب خود پوچھتے ہیں کہ بچا ہوا کھانا کہاں جائے گا، اور یہ تبدیلی انہیں امید دلاتی ہے۔غذائی ماہر ڈاکٹر رابعہ قریشی کے نزدیک یہ صرف کھانے کا ضیاع نہیں بلکہ اس پانی، بجلی، گیس اور محنت کا بھی ضیاع ہے جو اسے اگانے اور پکانے میں لگی۔ وہ مشورہ دیتی ہیں کہ ڈشوں کی تعداد محدود کی جائے، پلیٹ میں تھوڑا کھانا ڈال کر ضرورت ہو تو دوبارہ لیا جائے، اور مہمانوں کی صحیح تعداد معلوم کر کے کھانا پکوایا جائے۔ ان کے خیال میں یہ پیغام بچوں تک پہنچانا سب سے ضروری ہے، کیونکہ عادتیں بچپن میں بنتی ہیں۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) پہلے پیراگراف سے شادیوں میں کھانے کے ضیاع کے بارے میں تین حقائق لکھیے۔ [3]
Show answer
- (a) 1) بڑی تقریبات میں پکنے والے کھانے کا تقریباً ایک تہائی حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ 2) مہمان کئی ڈشیں ایک ساتھ ڈال کر آدھی چھوڑ دیتے ہیں۔ 3) میزبان کم پڑ جانے اور برادری کی باتوں کے ڈر سے زیادہ کھانا پکواتے ہیں۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ تینوں نکات۔
Q27Facts, details and effects · Core · Paper 1 style · 4 marksاقتباس: شہد کی مکھیاں خطرے میںشہد کی مکھی صرف شہد ہی نہیں دیتی۔ جب وہ ایک پھول سے دوسرے پھول پر جاتی ہے تو اس کے جسم سے چپکے زردانے دوسرے پھول تک پہنچ جاتے ہیں۔ اسی عمل کو زیرگی کہتے ہیں اور اسی سے پھل اور بیج بنتے ہیں۔ سیب، بادام، سورج مکھی اور کئی سبزیوں کی اچھی پیداوار انہی ننھی مزدوروں کی مرہونِ منت ہے، اور دنیا کی خوراک کا ایک بڑا حصہ کسی نہ کسی طرح ان کیڑوں پر منحصر ہے۔مگر پچھلے کچھ برسوں سے کئی ملکوں سے خبریں آ رہی ہیں کہ شہد کی مکھیوں کے چھتے خالی ہو رہے ہیں۔ سائنس دان اس کی کئی وجوہات بتاتے ہیں۔ فصلوں پر چھڑکی جانے والی کچھ زہریلی کیڑے مار دوائیں مکھیوں کا راستہ پہچاننے کا نظام خراب کر دیتی ہیں اور وہ چھتے تک واپس نہیں پہنچ پاتیں۔ جنگلی پودوں اور جھاڑیوں کو کاٹ کر ایک ہی فصل کے بڑے بڑے کھیت بنا دیے گئے ہیں، اس لیے مکھیوں کو سال بھر مختلف پھول نہیں ملتے۔ موسم کی تبدیلی سے پھول کھلنے کا وقت بدل گیا ہے، اور ایک ننھا طفیلی کیڑا، واروا مائٹ، چھتوں میں بیماریاں پھیلاتا ہے۔چکوال میں شہد کی مکھیاں پالنے والے مشتاق اعوان کا کہنا ہے کہ جن برسوں میں قریبی کھیتوں پر زیادہ اسپرے ہوا، ان کے چھتوں میں شہد آدھا رہ گیا۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ کسان اسپرے صبح سویرے یا شام کو کریں جب مکھیاں باہر نہ ہوں، کھیتوں کے کناروں پر جنگلی پھولوں کی پٹیاں چھوڑی جائیں اور زہریلی دواؤں کی جگہ قدرتی طریقے اپنائے جائیں۔ شہروں میں بھی لوگ اپنی بالکونی میں پھول دار پودے لگا کر ان کی مدد کر سکتے ہیں۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) زیرگی کا عمل کیسے ہوتا ہے؟ [1]
- (b) اقتباس کے مطابق شہد کی مکھیاں انسانوں کے لیے کیوں اہم ہیں؟ دو نکات لکھیے۔ [2]
- (c) مشتاق اعوان نے کھیتوں پر اسپرے کا کیا اثر دیکھا؟ [1]
Show answer
- (a) مکھی ایک پھول سے دوسرے پر جاتی ہے تو اس کے جسم پر چپکے زردانے دوسرے پھول تک پہنچ جاتے ہیں۔
1 نمبر۔
- (b) 1) زیرگی سے پھل اور بیج بنتے ہیں؛ سیب، بادام، سورج مکھی اور سبزیوں کی اچھی پیداوار ان پر منحصر ہے۔ 2) دنیا کی خوراک کا بڑا حصہ کسی نہ کسی طرح ان پر منحصر ہے۔ 3) یہ شہد بھی دیتی ہیں۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ کوئی دو۔
- (c) جن برسوں میں قریبی کھیتوں پر زیادہ اسپرے ہوا، ان کے چھتوں میں شہد آدھا رہ گیا۔
1 نمبر۔
Q28Facts, details and effects · Standard · Paper 1 style · 4 marksاقتباس: صحرا میں شمسی روشنیتھرپارکر کے صحرا میں بسنے والی کئی بستیوں میں کچھ برس پہلے تک سورج ڈھلتے ہی اندھیرا چھا جاتا تھا۔ قومی گرڈ کی بجلی یہاں تک نہیں پہنچی تھی، کیونکہ گھر ریت کے ٹیلوں میں دور دور بکھرے ہوئے ہیں اور ہر گھر تک کھمبے اور تار لے جانا بہت مہنگا تھا۔ لوگ مٹی کے تیل کے دیے جلاتے تھے جن کا دھواں آنکھوں اور پھیپھڑوں کے لیے نقصان دہ تھا۔ دوسری طرف اس صحرا میں سال کے بیشتر دن تیز دھوپ نکلتی ہے، اسی لیے یہاں شمسی توانائی سب سے موزوں حل سمجھی گئی۔اب بیشتر گھروں کی چھتوں پر چھوٹے سولر پینل لگے ہیں۔ ان سے دو بلب، ایک پنکھا اور موبائل فون چارج کرنے کا انتظام ہو جاتا ہے۔ بچے رات کو پڑھ سکتے ہیں، عورتیں شام کو کڑھائی کر کے کچھ آمدنی کما لیتی ہیں اور گاؤں کے کنویں پر سولر پمپ لگنے سے پانی کھینچنے کی مشقت بہت کم ہو گئی ہے۔ مٹی کے تیل پر ہر مہینے خرچ ہونے والی رقم بھی بچ جاتی ہے۔اس منصوبے پر کام کرنے والی انجینئر ماروی میگھواڑ کہتی ہیں کہ سولر پینل لگانا آسان ہے، انہیں چلائے رکھنا مشکل۔ "ریت کے طوفان پینلوں پر گرد کی تہہ جما دیتے ہیں اور بیٹریاں چند سال میں جواب دے دیتی ہیں۔ اگر گاؤں ہی کے نوجوانوں کو مرمت کا ہنر سکھایا جائے تو یہ نظام برسوں چل سکتا ہے۔" ان کے نزدیک اصل کامیابی بجلی نہیں بلکہ وہ اعتماد ہے جو ان بستیوں کے لوگوں میں پیدا ہوا ہے۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) سولر پینل لگنے سے بستی والوں کی زندگی میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں؟ چار نکات لکھیے۔ [4]
Show answer
- (a) 1) بچے رات کو پڑھ سکتے ہیں۔ 2) عورتیں شام کو کڑھائی کر کے آمدنی کماتی ہیں۔ 3) سولر پمپ سے کنویں سے پانی کھینچنے کی مشقت کم ہوئی۔ 4) مٹی کے تیل پر ہونے والا ماہانہ خرچ بچ گیا۔ 5) دیوں کے نقصان دہ دھوئیں سے نجات / بلب، پنکھا اور فون چارجنگ کی سہولت۔
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ کوئی چار۔
Q29Facts, details and effects · Standard · Paper 1 style · 4 marksاقتباس: جاپان اور زلزلےجاپان دنیا کے ان ملکوں میں سے ہے جہاں سب سے زیادہ زلزلے آتے ہیں۔ یہاں ہر سال سیکڑوں جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں، مگر بڑے زلزلوں میں بھی جانی نقصان اکثر توقع سے بہت کم رہتا ہے۔ اس کی وجہ برسوں کی تیاری ہے۔ ٹوکیو کی اونچی عمارتیں ایسی بنیادوں پر کھڑی کی جاتی ہیں جو جھٹکوں کو جذب کر لیتی ہیں، اور تعمیر کے قوانین پر سختی سے عمل ہوتا ہے۔ زلزلے کی شدید لہریں پہنچنے سے چند سیکنڈ پہلے ہی موبائل فونوں، ٹی وی اور ٹرینوں کو خودکار وارننگ مل جاتی ہے، اور تیز رفتار ٹرینیں خود بخود رکنا شروع کر دیتی ہیں۔ہر سال یکم ستمبر کو ملک بھر میں آفات سے بچاؤ کا دن منایا جاتا ہے۔ اسکولوں میں بچے مشق کرتے ہیں کہ جھٹکا محسوس ہوتے ہی میز کے نیچے چھپ جائیں، سر کو بازوؤں سے ڈھانپیں اور پھر قطار بنا کر کھلے میدان میں جمع ہوں۔ ٹوکیو میں پڑھنے والی پاکستانی طالبہ مہوش ملک بتاتی ہیں: "پہلی بار جب کمرہ ہلا تو میں چیخ پڑی، لیکن میری جاپانی ہم جماعت بالکل پرسکون تھی۔ اس نے کہا کہ گھبراہٹ سب سے بڑا خطرہ ہے۔ یہاں سب کو معلوم ہے کہ کیا کرنا ہے، اس لیے کوئی بھگدڑ نہیں مچتی۔" مہوش کے خیال میں پاکستان کو اس نظم و ضبط سے بہت کچھ سیکھنا چاہیے، خاص طور پر اسکولوں میں باقاعدہ مشقیں کروانی چاہییں۔جاپانی ماہرین ہر گھر کو مشورہ دیتے ہیں کہ ایک ہنگامی تھیلا تیار رکھیں جس میں تین دن کا پانی، خشک خوراک، ٹارچ، دوائیں اور ضروری کاغذات ہوں۔ بھاری الماریوں کو دیوار کے ساتھ کس دیا جائے اور خاندان پہلے سے طے کر لے کہ بچھڑ جانے کی صورت میں کس جگہ ملنا ہے۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) جاپان میں بڑے زلزلوں کے باوجود جانی نقصان کم کیوں رہتا ہے؟ پہلے پیراگراف سے چار حقائق لکھیے۔ [4]
Show answer
- (a) 1) اونچی عمارتیں ایسی بنیادوں پر بنتی ہیں جو جھٹکے جذب کر لیتی ہیں۔ 2) تعمیر کے قوانین پر سختی سے عمل ہوتا ہے۔ 3) شدید لہروں سے چند سیکنڈ پہلے فون، ٹی وی اور ٹرینوں کو خودکار وارننگ ملتی ہے۔ 4) تیز رفتار ٹرینیں خود بخود رکنا شروع کر دیتی ہیں۔ (برسوں کی تیاری = عمومی نکتہ، الگ نمبر نہیں۔)
ہر درست اور الگ نکتے پر 1 نمبر۔ صرف اقتباس سے لیے گئے نکات قبول ہیں؛ عام معلومات پر نمبر نہیں۔ چار نکات پہلے پیراگراف سے۔
Q30Personal evaluation · Challenge · Paper 1 style · 4 marksاقتباس: محلے کی لائبریریملتان کے ایک پرانے محلے میں "دارالمطالعہ" نام کی چھوٹی سی لائبریری ساٹھ برس سے قائم ہے۔ کبھی یہاں شام کو بیٹھنے کی جگہ نہیں ملتی تھی؛ لوگ اخبار پڑھنے، ناول لینے اور بحث کرنے آتے تھے۔ اب اکثر کرسیاں خالی رہتی ہیں۔ لائبریری کے نگران کہتے ہیں کہ نوجوانوں کا وقت اب موبائل فون کی اسکرین لے گئی ہے اور مختصر ویڈیوز دیکھنے کی عادت نے لمبی تحریر پڑھنے کا صبر ختم کر دیا ہے۔ کتابیں مہنگی ہو گئی ہیں، اسکولوں میں نصاب کے علاوہ پڑھنے کی حوصلہ افزائی کم ہوتی ہے اور بہت سے والدین خود بھی کتاب ہاتھ میں نہیں لیتے، اس لیے بچوں کے سامنے کوئی مثال نہیں ہوتی۔لائبریری کی پرانی رکن، ریٹائرڈ پروفیسر نسرین اختر، کا کہنا ہے کہ کتاب پڑھنا ذہن کی ورزش ہے۔ "کہانی پڑھتے ہوئے بچہ خود منظر بناتا ہے، اس کا تخیل بڑھتا ہے اور وہ دوسروں کے دکھ سکھ کو سمجھنا سیکھتا ہے۔ اسکرین سب کچھ تیار کر کے دے دیتی ہے، سوچنے کا موقع نہیں دیتی۔" ان کی رائے میں ڈیجیٹل کتاب بری نہیں، اصل بات پڑھنے کی عادت ہے، چاہے کاغذ پر ہو یا فون پر۔پچھلے سال محلے کے چند نوجوانوں نے لائبریری میں ہر ہفتے "کہانی کی شام" شروع کی۔ بچے آ کر کہانیاں سنتے ہیں اور پھر خود سناتے ہیں۔ اب تیس سے زیادہ بچے باقاعدہ رکن بن چکے ہیں، کچھ والدین بھی ان کے ساتھ آنے لگے ہیں، اور ایک مقامی تاجر نے نئی کتابوں کے لیے الماری عطیہ کی ہے۔ نگران مسکرا کر کہتے ہیں کہ شاید یہ کرسیاں پھر سے بھرنے لگیں۔(یہ اقتباس ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔ جوابات اقتباس سے لیجیے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ میں لکھیے۔)
- (a) اقتباس کا آخری پیراگراف مثبت تاثر دیتا ہے یا منفی؟ اپنی رائے دیجیے اور اقتباس سے تین ثبوت پیش کیجیے۔ [4]
Show answer
- (a) مثبت۔ ثبوت: 1) نوجوانوں نے ہفتہ وار 'کہانی کی شام' شروع کی جس میں بچے کہانیاں سنتے اور سناتے ہیں۔ 2) تیس سے زیادہ بچے باقاعدہ رکن بن گئے اور کچھ والدین بھی آنے لگے۔ 3) ایک تاجر نے الماری عطیہ کی۔ 4) نگران مسکرا کر امید ظاہر کرتے ہیں کہ کرسیاں پھر بھریں گی۔
1 نمبر درست رائے (مثبت) پر، باقی 3 نمبر کوئی تین ثبوتوں پر جو آخری پیراگراف سے ہوں۔ پہلے پیراگراف کی منفی باتوں کو ثبوت کے طور پر نمبر نہیں۔