Question Simulator

O Level Urdu First Language (3247)

Poetry (set texts) Banker

10 questions · about 15% of the marks we indexed · examined in 5 of 5 sessions.

Questions by year

2026

  • 2026 May/June · Paper 21 · Q27.5 marksNazm: message and themes
  • 2026 May/June · Paper 21 · Q37.5 marksGhazal: style and mood

2025

  • 2025 May/June · Paper 21 · Q27.5 marksHumorous and satirical poetry
  • 2025 May/June · Paper 21 · Q37.5 marksGhazal: style and mood

2024

2023

  • 2023 May/June · Paper 21 · Q27.5 marksHumorous and satirical poetry
  • 2023 May/June · Paper 21 · Q37.5 marksGhazal: style and mood

2022

  • 2022 May/June · Paper 21 · Q27.5 marksNazm: message and themes
  • 2022 May/June · Paper 21 · Q37.5 marksGhazal: style and mood

References only, not question text. Open Official paper ↗ where Cambridge publishes the paper, or see the official Cambridge past-papers page; for other papers, ask your school. “Paper 42” means Paper 4, variant 2.

Practice questions

Original questions written by HomiLabs in the style of the exam, with answers and mark schemes. They are not Cambridge past paper questions and have not been reviewed by Cambridge. Try each one before opening the answer.

Q1Ghazal: style and mood · Core · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔غالبؔ:ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےبہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلےدلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہےآخر اس درد کی دوا کیا ہےہم ہیں مشتاق اور وہ بیزاریا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے(کلاسیکی شعرا کے مشہور اشعار؛ عوامی ملکیت۔)

  1. (a) «غالبؔ کی غزل میں غم بھی ہے اور غم پر غور و فکر بھی۔» ان اشعار کی روشنی میں اس بیان پر بحث کیجیے۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• پہلے شعر میں شاعر کی کیفیت (خواہشوں کی کثرت اور تشنگی) کی وضاحت کیجیے۔• دوسرے اور تیسرے شعر میں سوالیہ انداز سے کیا اثر پیدا ہوتا ہے؟ [15]
Show answer
  1. (a) غم: ادھورے ارمان، محبوب کی بے رخی، درد؛ غور و فکر: غالب صرف روتے نہیں بلکہ غم کی وجہ پوچھتے ہیں ('دوا کیا ہے'، 'ماجرا کیا ہے')؛ پہلا شعر پوری انسانیت پر لاگو فلسفیانہ حقیقت؛ لہجے میں شوخی اور حیرت جو غم کو ہلکا کرتی ہے؛ نتیجہ: بیان درست، حوالوں سے ثابت۔مزید نکات: انسان کی خواہشیں ہزاروں ہیں اور ہر ایک اتنی شدید کہ اس پر جان نکل جائے؛ بہت سے ارمان پورے ہوئے پھر بھی تسلی نہیں — انسانی فطرت کی ناآسودگی؛ مبالغہ ('ہر خواہش پہ دم نکلے')؛ 'نکلے' کا دو معنوں میں استعمال (دم نکلنا = جان جانا، ارمان نکلنا = پورے ہونا)۔دل سے خطاب (تخاطب) — دل کو الگ شخص کی طرح 'ناداں' کہنا؛ سوال جواب نہیں مانگتے بلکہ حیرت، بے بسی اور درد ظاہر کرتے ہیں (استفہامِ انکاری)؛ تیسرے شعر میں تضاد: 'مشتاق' بمقابلہ 'بیزار'؛ 'یا الٰہی' — شکایت بھی اور معصوم حیرت بھی؛ سادہ، رواں زبان جو گفتگو جیسی لگتی ہے۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q2Ghazal: style and mood · Core · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔میرؔ تقی میرؔ:پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہےجانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہےدیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہےیہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے(کلاسیکی شعرا کے مشہور اشعار؛ عوامی ملکیت۔)

  1. (a) «میرؔ کی شاعری سادگی اور درد کا حسین امتزاج ہے۔» ان اشعار کی روشنی میں بحث کیجیے۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• ان اشعار میں شاعر کے غم کی کیفیت بیان کیجیے۔• میرؔ کی سادگی اور تکرار (پتا پتا، بوٹا بوٹا، جانے) کا اثر واضح کیجیے۔ [15]
Show answer
  1. (a) سادگی: آسان الفاظ، فطری بیان، تکلف نہیں؛ درد: محبوب کی بے خبری، دل کی جلن؛ امتزاج: سادہ لفظ گہرا اثر پیدا کرتے ہیں — قاری فوراً محسوس کرتا ہے؛ فطرت (باغ، پتا) کو غم کا گواہ بنانا؛ ذاتی ردِعمل۔مزید نکات: شاعر کا غم اتنا ظاہر ہے کہ باغ کا ہر پتا اور بوٹا جانتا ہے؛ مگر محبوب (گل) بے خبر یا بے پروا ہے — محرومی؛ دوسرے شعر میں اندرونی جلن — دھواں دل یا جان سے اٹھ رہا ہے؛ غم کی شدت اور حیرت۔روزمرہ، ہندی الاصل الفاظ — سادہ اور دل کو لگنے والے؛ 'پتا پتا، بوٹا بوٹا' کی تکرار سے ہمہ گیری (ہر ایک) اور موسیقیت؛ 'جانے' کی بار بار تکرار — طنز آمیز درد کہ سب جانتے ہیں سوائے ایک کے؛ 'دھواں سا' — تشبیہ جو اندرونی آگ دکھاتی ہے؛ گفتگو کا انداز ('دیکھ تو')۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q3Ghazal: style and mood · Core · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔علامہ اقبالؔ:خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلےخدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہےنہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سےذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی(کلاسیکی شعرا کے مشہور اشعار؛ عوامی ملکیت۔)

  1. (a) ان اشعار کی روشنی میں بتائیے کہ اقبالؔ نوجوانوں اور قوم سے کیا توقع رکھتے ہیں۔ آج کے پاکستان کے لیے یہ پیغام کتنا اہم ہے؟اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• پہلے شعر میں 'خودی' سے کیا مراد ہے اور شاعر اسے بلند کرنے کی تلقین کیوں کرتا ہے؟• دوسرے شعر میں 'کشتِ ویراں'، 'نم' اور 'زرخیز مٹی' کے استعارات کی وضاحت کیجیے۔ [15]
Show answer
  1. (a) توقعات: خود اعتمادی، مایوسی سے بچنا، عمل، محنت؛ قوم کی صلاحیت پر یقین؛ آج کے لیے: تعلیم، نوجوانوں کی تربیت، امید؛ ذاتی رائے دلائل کے ساتھ؛ حوالے۔مزید نکات: خودی = اپنی پہچان، خود اعتمادی، عزتِ نفس اور اپنی صلاحیتوں کا شعور (غرور نہیں)؛ جب انسان اپنی خودی کو مضبوط کر لے تو وہ اپنی تقدیر خود سنوارنے کے قابل ہو جاتا ہے؛ مبالغہ — خدا خود بندے کی رضا پوچھے؛ عمل اور محنت کی اہمیت۔کشتِ ویراں = بنجر کھیت = پسماندہ، مایوس قوم؛ نم = تھوڑی سی توجہ، تعلیم، رہنمائی یا جذبہ؛ زرخیز مٹی = قوم میں چھپی صلاحیتیں؛ 'ساقی' سے خطاب — روایتی غزل کا لفظ نئے معنی میں؛ پیغام: تھوڑی کوشش سے بڑی تبدیلی۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q4Ghazal: style and mood · Core · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔اندھیری رات ہے لیکن سحر کی بات کروبکھر گئے ہیں جو تارے، نظر کی بات کروجو آندھیوں میں بھی جلتا رہا منڈیر پہ دیپاسی کی لو سے نئے اک سفر کی بات کرویہ زخم وقت کے مرہم سے بھر ہی جائیں گےشکستہ پا ہو، مگر رہ گزر کی بات کرو(یہ اشعار ہوم لیبز کے طبع زاد ہیں، کلاسیکی انداز میں لکھے گئے ہیں۔)

  1. (a) عام طور پر غزل کو غم کی صنف سمجھا جاتا ہے۔ یہ غزل اس تصور سے کس طرح مختلف ہے؟ اپنی رائے دلائل کے ساتھ لکھیے۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• اس غزل کا موڈ کیسا ہے؟ مثالوں سے واضح کیجیے۔• غزل میں علامتوں (رات، سحر، دیپ، آندھی، رہ گزر) اور ردیف «کی بات کرو» کے استعمال پر تبصرہ کیجیے۔ [15]
Show answer
  1. (a) غزل میں غم کا اعتراف موجود (اندھیری رات، زخم، شکستہ پا) مگر ہر مصرعِ ثانی میں امید کا جواب — ساخت میں تضاد؛ مقصد: حوصلہ افزائی؛ روایتی علامتیں نئے معنی میں؛ ذاتی رائے۔مزید نکات: امید اور حوصلے کا موڈ؛ اندھیرے کے باوجود سحر کی بات؛ آندھیوں میں جلتا دیپ — استقامت؛ زخم بھر جانے کا یقین؛ تھکن (شکستہ پا) کے باوجود سفر جاری رکھنے کی تلقین۔رات = مشکل/مایوسی؛ سحر = امید/کامیابی؛ دیپ = حوصلہ، چھوٹی مگر مسلسل کوشش؛ آندھی = مصیبتیں؛ رہ گزر = منزل کی طرف راستہ؛ ردیف 'کی بات کرو' — امر (حکم/مشورہ) کا انداز، قاری سے براہِ راست خطاب، ہر شعر میں مثبت سمت کی طرف رخ۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q5Ghazal: style and mood · Core · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔سر جھکایا نہ کبھی اہلِ ستم کے آگےہم نے سچ رکھ دیا ہر بار قلم کے آگےدھوپ تھی، راہ کٹھن تھی، مگر اپنی منزلخود ہی بڑھتی رہی ہر ایک قدم کے آگےمسکرا کر جو گزر جائے مصیبت سے، وہیسر بلندی سے کھڑا رہتا ہے غم کے آگے(یہ اشعار ہوم لیبز کے طبع زاد ہیں، کلاسیکی انداز میں لکھے گئے ہیں۔)

  1. (a) «خودداری اور حوصلہ اس غزل کی روح ہیں۔» اشعار کی روشنی میں اس بیان پر بحث کیجیے۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• شاعر کے کردار کی کون سی خوبیاں ان اشعار سے ظاہر ہوتی ہیں؟• ردیف «کے آگے» کو ہر شعر میں کس طرح نئے معنی دیے گئے ہیں؟ دوسرے شعر کے خیال کی ندرت بھی بیان کیجیے۔ [15]
Show answer
  1. (a) خودداری: پہلا شعر؛ حوصلہ: دوسرا اور تیسرا شعر؛ قلم اور سچائی کا تعلق — صحافت/ادب کی ذمہ داری؛ لہجہ پرعزم، فخر سے بھرپور مگر مبالغے سے پاک؛ ذاتی رائے؛ حوالے۔مزید نکات: خودداری: ظالموں کے سامنے سر نہ جھکانا؛ سچائی: قلم سے سچ لکھنا؛ استقامت: کٹھن راہ اور دھوپ کے باوجود چلتے رہنا؛ صبر اور حوصلہ: مصیبت میں مسکرانا۔پہلے مصرع میں 'آگے' = سامنے (اہلِ ستم کے سامنے)؛ قلم کے آگے = قلم کے حوالے کرنا؛ قدم کے آگے = آگے بڑھتے جانا؛ غم کے آگے = غم کے مقابل؛ ایک ہی ردیف کے مختلف مفہوم — شاعرانہ مہارت؛ دوسرا شعر: منزل خود قدموں کے آگے بڑھتی رہی — عام خیال کا الٹ، منزل مسافر کی محنت کے ساتھ خود قریب آتی ہے۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q6Ghazal: style and mood · Standard · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔غالبؔ:رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنجمشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیںعشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانادرد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا(کلاسیکی شعرا کے مشہور اشعار؛ عوامی ملکیت۔)

  1. (a) «غالبؔ مایوسی میں بھی امید کا پہلو تلاش کر لیتے ہیں۔» ان اشعار کے حوالے سے اس بیان پر اپنی رائے دیجیے۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• پہلے شعر کا مفہوم اپنے الفاظ میں لکھیے۔• دوسرے شعر میں 'قطرہ' اور 'دریا' کی علامتوں اور 'درد' اور 'دوا' کے تضاد کی وضاحت کیجیے۔ [15]
Show answer
  1. (a) دونوں اشعار میں دکھ کو مثبت انداز میں دیکھا گیا: مشکلیں آسان، درد دوا؛ فنا میں عشرت — موت/مٹ جانے کو خوشی کہنا؛ یہ امید سادہ خوش فہمی نہیں بلکہ تجربے اور فلسفے سے نکلی ہے؛ ذاتی رائے: کیا یہ رویہ حقیقت پسندانہ ہے؟مزید نکات: جب انسان دکھ کا عادی ہو جاتا ہے تو دکھ کا احساس ختم ہو جاتا ہے؛ شاعر پر اتنی مشکلیں پڑیں کہ وہ معمول بن گئیں اور آسان لگنے لگیں؛ مشکل کی کثرت اسے آسان بنا دیتی ہے — تضاد (مشکل/آساں)؛ صبر اور برداشت کا بیان۔قطرہ = فرد/انسان، دریا = کل/بڑی حقیقت (صوفیانہ معنی میں خالق)؛ قطرے کی خوشی دریا میں مل کر فنا ہونے میں ہے — اپنی انا مٹا کر بڑے مقصد میں شامل ہونا؛ درد جب حد سے بڑھے تو خود علاج بن جاتا ہے — تضاد سے نیا معنی(paradox)؛ دونوں مصرعوں میں ایک ہی خیال کی دو مثالیں — توازن۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q7Ghazal: style and mood · Standard · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔میرؔ تقی میرؔ:نازکی اس کے لب کی کیا کہیےپنکھڑی اک گلاب کی سی ہےمیرؔ کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبباسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں(کلاسیکی شعرا کے مشہور اشعار؛ عوامی ملکیت۔)

  1. (a) ان دونوں اشعار میں میرؔ کا مزاج کس طرح سامنے آتا ہے؟ کیا میرؔ صرف غم کے شاعر ہیں؟ دلائل کے ساتھ لکھیے۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• پہلے شعر میں تشبیہ کی خوبی بیان کیجیے۔• دوسرے شعر میں میرؔ اپنے آپ پر کس طرح طنز کرتے ہیں؟ اس شعر کی ستم ظریفی واضح کیجیے۔ [15]
Show answer
  1. (a) پہلا شعر حسن پرستی اور لطافت؛ دوسرا شعر شوخی اور خود پر مسکراہٹ؛ اگرچہ میر کو غم کا شاعر کہا جاتا ہے، یہاں ان کے ہاں نرمی، حسن اور ہلکا مزاح بھی ہے؛ نتیجہ: میر کا مزاج سادہ، سچا اور متنوع؛ حوالے۔مزید نکات: محبوب کے لب کی نزاکت کو گلاب کی پنکھڑی سے تشبیہ؛ 'کیا کہیے' — بیان سے عاجزی، تعریف کا لطیف انداز؛ 'سی ہے' — تشبیہ کو نرم اور فطری بناتا ہے؛ چھوٹی بحر اور سادہ الفاظ میں نازک خیال۔شاعر خود کو 'سادہ' (بھولا) کہتا ہے — خود پر ہنسی؛ ستم ظریفی: جس (عطار کے لڑکے/محبوب) کی وجہ سے بیمار ہوئے اسی سے دوا لے رہے ہیں — بیماری اور علاج کا ایک ہی ذریعہ؛ عشق کی بے بسی اور معصومیت؛ مقطع میں تخلص کا استعمال، اپنے آپ سے خطاب۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q8Ghazal: style and mood · Standard · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔علامہ اقبالؔ:ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیںابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیںتو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیراترے سامنے آسماں اور بھی ہیں(کلاسیکی شعرا کے مشہور اشعار؛ عوامی ملکیت۔)

  1. (a) «اقبالؔ کی غزل روایتی غزل کی اداسی کے بجائے امید اور عمل کا پیغام دیتی ہے۔» ان اشعار کی روشنی میں بحث کیجیے۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• ان اشعار کا مرکزی پیغام کیا ہے؟• 'شاہیں' کی علامت اور ردیف «اور بھی ہیں» کا اثر واضح کیجیے۔ [15]
Show answer
  1. (a) روایتی غزل: محبوب، ہجر، غم؛ اقبال کے ہاں 'عشق' کا مطلب جذبۂ عمل اور مقصد سے لگن؛ 'امتحاں' کو خوف کے بجائے چیلنج کے طور پر دیکھنا؛ مخاطب (تو) نوجوان — خطابیہ انداز؛ غزل کی صنف میں نیا موضوع؛ حوالے۔مزید نکات: انسان کو ایک منزل پر رک نہیں جانا چاہیے، آگے اور جہان ہیں؛ جدوجہد ('عشق کے امتحاں') جاری رہنی چاہیے؛ نوجوان کو شاہین کی طرح بلند پرواز کرنی ہے؛ نئی منزلیں سامنے ہیں — حوصلہ اور عزم۔شاہین = بلند پرواز، خودداری، آزادی، محنت (اپنا شکار خود کرتا ہے) — اقبال کے مثالی نوجوان کی علامت؛ 'پرواز ہے کام تیرا' — مقصدِ زندگی عمل؛ ردیف 'اور بھی ہیں' مسلسل آگے بڑھنے کا احساس، لامحدود امکانات؛ پرجوش آہنگ۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q9Ghazal: style and mood · Standard · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔داغؔ دہلوی:نہیں کھیل اے داغؔ یاروں سے کہہ دوکہ آتی ہے اردو زباں آتے آتےحالیؔ:ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاںاب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں(کلاسیکی شعرا کے مشہور اشعار؛ عوامی ملکیت۔)

  1. (a) دونوں اشعار زبان کی صفائی اور روانی کی عمدہ مثال ہیں۔ ان کے اسلوب کا موازنہ کرتے ہوئے بتائیے کہ آپ کس شعر کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• داغؔ کے شعر میں اردو زبان کے بارے میں کیا کہا گیا ہے؟ شاعر کے لہجے پر بھی تبصرہ کیجیے۔• حالیؔ کے شعر میں 'جستجو' کا خیال کس طرح پیش کیا گیا ہے؟ [15]
Show answer
  1. (a) داغ: محاورہ، روزمرہ، شوخی، دہلوی زبان کی صفائی؛ حالی: سادگی، فکری گہرائی، سنجیدگی، مقصدیت؛ دونوں میں تکرار (آتے آتے، خوب/خوب تر) کا مختلف استعمال؛ ذاتی پسند دلیل کے ساتھ۔مزید نکات: اردو پر عبور آسان کام نہیں، وقت اور مشق سے آتا ہے؛ زبان کی نزاکت اور محاورے کی صحت کی اہمیت؛ لہجہ: فخر، خود اعتمادی، ہلکا تفاخر اور دوستانہ تنبیہ ('یاروں سے کہہ دو')؛ 'آتے آتے' کی تکرار سے تدریج کا احساس۔انسان کبھی ایک اچھی چیز پر مطمئن نہیں ہوتا، ہمیشہ بہتر سے بہتر کی تلاش میں رہتا ہے؛ یہ ترقی کی خواہش بھی ہے اور بے چینی بھی؛ دوسرا مصرع سوالیہ اور منتظر — 'دیکھیے' کا لفظ قاری کو شریک کرتا ہے؛ 'خوب/خوب تر' کا درجہ بدرجہ استعمال؛ سادہ، رواں زبان۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q10Ghazal: style and mood · Standard · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔وہ کیا گیا کہ مرا شہر ہی اداس ہواگلی کا پیڑ بھی جیسے کہ بے لباس ہواوہ دن بھی تھے کہ ہر اک شام اس کا وعدہ تھیاب انتظار ہی جینے کی ایک آس ہواتمام عمر جسے ڈھونڈتے پھرے باہروہ آئنہ تو ہمیشہ ہمارے پاس ہوا(یہ اشعار ہوم لیبز کے طبع زاد ہیں، کلاسیکی انداز میں لکھے گئے ہیں۔)

  1. (a) «غزل کا ہر شعر اپنی جگہ مکمل اکائی ہوتا ہے، پھر بھی ایک کیفیت انہیں جوڑے رکھتی ہے۔» اس غزل کے حوالے سے اس بیان پر بحث کیجیے۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• پہلے دو اشعار میں ماضی اور حال کا تضاد کس طرح دکھایا گیا ہے؟• آخری شعر میں 'آئنہ' کی علامت کی وضاحت کیجیے۔ یہ شعر غزل کے باقی اشعار سے کس طرح مختلف ہے؟ [15]
Show answer
  1. (a) ہر شعر الگ خیال: اداسی کا ماحول، ماضی کی یاد، خود شناسی؛ مشترکہ کیفیت: تنہائی، کھو جانے اور تلاش کا احساس؛ قافیہ و ردیف (اداس، آس، پاس + ہوا) بھی وحدت دیتے ہیں؛ نتیجہ؛ حوالے۔مزید نکات: ماضی: ہر شام ملاقات کا وعدہ — خوشی، قربت؛ حال: محبوب جا چکا، شہر اداس، پیڑ بے لباس؛ اب صرف انتظار ہی جینے کا سہارا؛ 'وہ دن بھی تھے' اور 'اب' کے الفاظ وقت کی تبدیلی واضح کرتے ہیں۔آئنہ = اپنی ذات، خود شناسی، سکون یا سچائی؛ انسان باہر کی دنیا میں تلاش کرتا رہتا ہے جبکہ جواب اس کے اندر ہے؛ صوفیانہ/فلسفیانہ رنگ؛ پہلے اشعار ذاتی ہجر کے، آخری شعر عمومی حکمت کا — غزل کے ہر شعر کا الگ مضمون ہو سکتا ہے (غزل کی خصوصیت)۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q11Ghazal: style and mood · Standard · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔چمن میں پھول کھلے، کس کا یہ اشارہ ہےہر ایک شاخ نے کس نام کو پکارا ہےندی کے شور میں اک سرمدی ترانہ ہےپہاڑ کی یہ خموشی بھی اک سہارا ہےہم اپنی ذات میں کھوئے رہے تمام عمرجو آنکھ کھولی تو ہر سمت اک نظارہ ہے(یہ اشعار ہوم لیبز کے طبع زاد ہیں، کلاسیکی انداز میں لکھے گئے ہیں۔)

  1. (a) اس غزل کا آخری شعر انسان کو کیا پیغام دیتا ہے؟ اپنی رائے اور حوالوں کے ساتھ تفصیل سے لکھیے۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• اس غزل میں فطرت کو کس نظر سے دیکھا گیا ہے؟• غزل میں سوالیہ انداز، تجسیم اور تضاد (شور/خموشی) کے استعمال پر تبصرہ کیجیے۔ [15]
Show answer
  1. (a) پیغام: انسان اپنی ذات اور مصروفیت میں کھو کر اردگرد کی خوبصورتی اور معنی سے غافل رہتا ہے؛ ذرا سی توجہ سے ہر طرف نظارہ اور حکمت؛ آج کی تیز رفتار زندگی/اسکرین سے اطلاق؛ ذاتی تجربہ؛ حوالے۔مزید نکات: فطرت کسی بڑی ہستی (خالق) کی نشانی — پھولوں کا کھلنا 'اشارہ'؛ شاخیں کسی نام کو 'پکارتی' ہیں — فطرت عبادت گزار؛ ندی کا شور ابدی (سرمدی) گیت؛ پہاڑ کی خاموشی سہارا اور سکون؛ صوفیانہ اور حیرت بھرا انداز۔سوالیہ انداز: 'کس کا یہ اشارہ'، 'کس نام کو' — جواب دیے بغیر قاری کو غور پر آمادہ کرنا؛ تجسیم: شاخ کا پکارنا، پہاڑ کا سہارا دینا؛ تضاد: ندی کا شور اور پہاڑ کی خموشی — دونوں میں معنی؛ آخری شعر کا موڑ: خود میں گم رہنے کے بعد آنکھ کھلنا — بیداری۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q12Ghazal: style and mood · Challenge · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔غالبؔ:ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکندل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہےبازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگےہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے(کلاسیکی شعرا کے مشہور اشعار؛ عوامی ملکیت۔)

  1. (a) «غالبؔ کی شاعری کی اصل پہچان ان کی شوخی اور فکری بلندی ہے۔» ان اشعار کی مدد سے اس بیان پر بحث کیجیے۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• دونوں اشعار میں غالبؔ کا لہجہ کیسا ہے؟ مثالوں سے واضح کیجیے۔• «بازیچۂ اطفال» کی ترکیب اور ردیف «مرے آگے» کا اثر بیان کیجیے۔ [15]
Show answer
  1. (a) شوخی: جنت کے بارے میں بےباک مگر لطیف جملہ، 'خیال اچھا ہے' کا انداز؛ فکری بلندی: دنیا کی بے ثباتی، انسانی تصورات پر غور؛ دونوں کا امتزاج — سنجیدہ بات ہلکے انداز میں؛ مخالف نکتہ: غالب کے ہاں غم بھی ہے؛ نتیجہ متوازن۔مزید نکات: شوخ، ظریفانہ اور خود اعتماد؛ پہلے شعر میں ہلکی شوخی — 'دل کے خوش رکھنے کو' خیال کو اچھا کہنا؛ دوسرے شعر میں بے نیازی اور برتری — دنیا کو بچوں کا کھیل کہنا؛ دونوں میں فلسفیانہ گہرائی۔بازیچۂ اطفال (بچوں کا کھیل) فارسی ترکیب — مختصر لفظوں میں بڑا خیال؛ دنیا کے ہنگامے، جھگڑے اور شان و شوکت بے حقیقت؛ 'شب و روز تماشا' — دنیا اسٹیج کی طرح؛ ردیف 'مرے آگے' شاعر کو تماشائی کے مقام پر رکھتی ہے — انا، بلندیٔ فکر اور فاصلہ؛ تکرار سے زور۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q13Ghazal: style and mood · Challenge · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔مومنؔ:تم مرے پاس ہوتے ہو گویاجب کوئی دوسرا نہیں ہوتاذوقؔ:لائی حیات آئے، قضا لے چلی چلےاپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے(کلاسیکی شعرا کے مشہور اشعار؛ عوامی ملکیت۔)

  1. (a) دونوں اشعار کے موڈ (کیفیت) اور اسلوب کا موازنہ کیجیے۔ آپ کو کون سا شعر زیادہ متاثر کرتا ہے اور کیوں؟اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• مومنؔ کے شعر کے دو ممکنہ مفہوم بیان کیجیے۔• ذوقؔ کے شعر میں زندگی اور موت کے بارے میں کیا نظریہ پیش کیا گیا ہے؟ صنعتِ تکرار اور تضاد کی نشان دہی کیجیے۔ [15]
Show answer
  1. (a) مومن: رومانوی، لطیف، نازک خیال، ابہام؛ ذوق: فلسفیانہ، سنجیدہ، سیدھا اور محاوراتی؛ دونوں چھوٹے/رواں مگر مختلف؛ ذاتی پسند دلیل کے ساتھ۔مزید نکات: پہلا مفہوم: جب میں تنہا ہوتا ہوں تو محبوب کی یاد اتنی شدید ہوتی ہے کہ لگتا ہے تم پاس ہو؛ دوسرا مفہوم (صوفیانہ): جب دل میں کوئی اور نہیں رہتا تو خدا/محبوب کی قربت حاصل ہوتی ہے؛ 'گویا' کا لفظ دونوں معنی کھلے رکھتا ہے؛ نازک خیالی۔انسان کا آنا اور جانا اس کے اختیار میں نہیں — حیات لائی، قضا لے گئی؛ تسلیم و رضا اور بے بسی؛ تضاد: حیات/قضا، آئے/چلے؛ تکرار: 'اپنی خوشی' دو بار — بے اختیاری پر زور؛ رواں، محاوراتی زبان۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q14Ghazal: style and mood · Challenge · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔غالبؔ:یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتااگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتاہوم لیبز (طبع زاد شعر، کلاسیکی انداز میں):جدا ہوئے تو چمن کی ہوا بھی روٹھ گئیجو شاخ پھول سے بوجھل تھی، وہ بھی ٹوٹ گئی(غالبؔ کا شعر عوامی ملکیت ہے؛ دوسرا شعر ہوم لیبز کا طبع زاد ہے۔)

  1. (a) «غزل میں ہجر (جدائی) کا غم سب سے نمایاں موضوع ہے۔» دونوں اشعار کے موڈ اور اظہار کے انداز کا موازنہ کرتے ہوئے بحث کیجیے۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• غالبؔ کے شعر میں محرومی کا احساس کس طرح ظاہر ہوا ہے؟• دوسرے (طبع زاد) شعر میں جدائی کا اثر فطرت اور ماحول پر کیسے دکھایا گیا ہے؟ [15]
Show answer
  1. (a) دونوں میں ہجر؛ غالب: تقدیر اور زندگی پر فلسفیانہ تبصرہ، داخلی؛ دوسرا شعر: تصویری، خارجی ماحول کے ذریعے غم؛ غالب کا غم زیادہ گہرا اور عمومی، دوسرا زیادہ منظر نگارانہ؛ ہجر غزل کا بنیادی موضوع مگر واحد نہیں (شوخی، فلسفہ بھی)؛ نتیجہ۔مزید نکات: محبوب سے ملاقات قسمت میں ہی نہ تھی — تقدیر سے شکایت؛ دوسرا مصرع: اگر زندگی لمبی ہوتی تو بھی صرف انتظار ہی رہتا — محرومی دائمی؛ موت کو بھی انتظار ختم ہونے کا ذریعہ سمجھنا — گہری مایوسی؛ سادہ اور رواں انداز میں شدید غم۔محبوب کے جدا ہونے سے باغ کی ہوا 'روٹھ' گئی — تجسیم، فطرت بھی شاعر کے غم میں شریک؛ پھولوں سے لدی شاخ کا ٹوٹ جانا — بہار اور خوشی کا خاتمہ، شاعر کے ٹوٹے دل کی علامت؛ داخلی غم کا خارجی ماحول پر عکس؛ مبالغہ؛ قافیے 'روٹھ/ٹوٹ' کی صوتی چوٹ غم کو نمایاں کرتی ہے۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q15Ghazal: style and mood · Challenge · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔یہ شہر روشنیوں کا ہے، پر سحر نہیں ملتیہزار راستے ملتے ہیں، رہ گزر نہیں ملتیہر ایک ہاتھ میں دنیا سمٹ کے آئی ہےمگر کسی کو کسی کی خبر نہیں ملتیہجوم اتنا کہ کاندھے سے کاندھا چھلتا ہےمگر کسی کی کوئی مہرباں نظر نہیں ملتی(یہ اشعار ہوم لیبز کے طبع زاد ہیں، کلاسیکی انداز میں لکھے گئے ہیں۔)

  1. (a) «جدید شاعر غزل کی پرانی زبان میں نئے دور کے مسائل بیان کرتا ہے۔» اس غزل کی روشنی میں بحث کیجیے اور اپنی رائے دیجیے۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• یہ غزل جدید شہری زندگی کے بارے میں کیا کہتی ہے؟• غزل میں تضاد کی صنعت، «ہر ایک ہاتھ میں دنیا سمٹ کے آئی ہے» کے استعارے اور ردیف «نہیں ملتی» کے اثر پر تبصرہ کیجیے۔ [15]
Show answer
  1. (a) روایتی الفاظ: سحر، رہ گزر، نظر؛ نئے مسائل: شہری تنہائی، ٹیکنالوجی، ہجوم میں اجنبیت؛ کامیابی: روایتی علامتیں نئے معنی پاتی ہیں؛ ممکنہ تنقید؛ ذاتی رائے؛ حوالے۔مزید نکات: روشنی بہت مگر سحر (حقیقی امید/سکون) نہیں؛ راستے بہت مگر صحیح منزل کا راستہ نہیں — الجھن؛ موبائل فون ('ہر ہاتھ میں دنیا') کے باوجود ایک دوسرے سے بے خبری؛ ہجوم میں بھی کسی کی مہربان نظر نہ ملنا — بھیڑ میں تنہائی۔تضاد: روشنی/سحر، ہزار راستے/رہ گزر، دنیا ہاتھ میں/کسی کی خبر نہیں، ہجوم (کاندھے سے کاندھا)/مہرباں نظر کا نہ ملنا — ہر شعر کا بنیادی ڈھانچہ؛ استعارہ: ہاتھ میں دنیا = اسمارٹ فون/ٹیکنالوجی، جدید موضوع روایتی غزل کی زبان میں؛ ردیف 'نہیں ملتی' ہر شعر کو محرومی پر ختم کرتی ہے — سہولتوں کی کثرت کے باوجود کمی کا مسلسل احساس؛ آخری شعر میں جسمانی قربت اور جذباتی دوری کا تضاد سب سے تیز ہے۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q16Humorous and satirical poetry · Core · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔اکبرؔ الٰہ آبادی:ہم ایسی کل کتابیں قابلِ ضبطی سمجھتے ہیںکہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں(کلاسیکی شعرا کے مشہور اشعار؛ عوامی ملکیت۔)

  1. (a) «اکبرؔ ہنساتے ہیں مگر ان کی ہنسی کے پیچھے ایک سنجیدہ فکر چھپی ہوتی ہے۔» اس شعر کی روشنی میں بحث کیجیے۔ کیا یہ فکر آج بھی اہم ہے؟اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• اس شعر کا مفہوم اپنے الفاظ میں لکھیے۔• شعر میں قافیوں (ضبطی/خبطی) اور مبالغے سے مزاح کیسے پیدا ہوا ہے؟ [15]
Show answer
  1. (a) طنز کا ہدف: اندھی تقلید والی تعلیم جو نئی نسل کو اپنی جڑوں سے کاٹ دے؛ فکر: تعلیم کے ساتھ تہذیب اور ادب کا تحفظ؛ آج: انٹرنیٹ/میڈیا کے اثرات، نسلوں کا فاصلہ؛ اختلافی نکتہ: تمام نئی تعلیم بری نہیں، اکبر کا انداز مبالغہ آمیز؛ متوازن رائے۔مزید نکات: شاعر کہتا ہے کہ ایسی تمام کتابیں ضبط (ممنوع) کر دینی چاہییں جنہیں پڑھ کر نوجوان اپنے والد کو بے وقوف/پاگل سمجھنے لگیں؛ یعنی وہ تعلیم جو بڑوں کا احترام اور اپنی روایات کی قدر ختم کر دے؛ اشارہ اس دور کی مغربی تعلیم کے بعض اثرات کی طرف۔غیر متوقع ہم آواز قافیے — سنجیدہ قانونی لفظ 'ضبطی' اور بول چال کا 'خبطی'، صوتی لطف؛ مبالغہ: 'کل کتابیں' ضبط کرنا؛ صورتِ حال کا الٹ جانا — بیٹا باپ کو خبطی سمجھے؛ سنجیدہ لہجے میں مضحکہ خیز تجویز(ironic tone)؛ مختصر، چست مصرعے۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q17Humorous and satirical poetry · Core · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔«شادی کا کھانا» (طبع زاد مزاحیہ نظم)"کھانا کھل گیا!" جیسے ہی آواز آئیہال میں جیسے کوئی آندھی سی چھائیسوٹ بوٹ والے صاحب بھی دوڑ پڑےپلیٹیں لے کر سب میدان میں کود پڑےبریانی پر بوٹی کی وہ جنگ ہوئیبیچاری دلہن کی ماں بھی دنگ ہوئیایک چچا نے پلیٹ پہ مینار بنایاآدھا کھایا، آدھا وہیں چھوڑ کے آیادولہا بیٹھا اسٹیج پہ دیکھ رہا تھا منظراس کے حصے آیا آخر رائتہ اور اک گاجر(یہ نظم ہوم لیبز کی طبع زاد ہے۔)

  1. (a) «اچھا مزاح ہنساتے ہنساتے اصلاح کر دیتا ہے۔» اس نظم کی روشنی میں اس بیان پر بحث کیجیے۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• اس نظم میں کن معاشرتی رویوں کا مذاق اڑایا گیا ہے؟• نظم میں جنگ کی اصطلاحات (آندھی، میدان، کود پڑے، جنگ) اور مبالغے سے مزاح کیسے پیدا کیا گیا ہے؟ [15]
Show answer
  1. (a) نظم ہنساتی ہے مگر ہمیں اپنے رویے پر شرمندہ بھی کرتی ہے؛ کھانے کے ضیاع اور تہذیب کے فقدان پر طنز؛ کسی ایک فرد کے بجائے سب پر ہلکی چوٹ — اس لیے ناگوار نہیں؛ اصلاح کا پیغام: نظم و ضبط، شکرگزاری، میزبان کا احترام؛ ذاتی تجربہ؛ حوالے۔مزید نکات: کھانے پر ٹوٹ پڑنا اور بدنظمی؛ پڑھے لکھے/خوش لباس لوگوں ('سوٹ بوٹ والے') کی بھی بے صبری؛ لالچ — پلیٹ پر 'مینار'؛ کھانے کا ضیاع — آدھا چھوڑ دینا؛ میزبان اور دولہا جیسے اہم لوگوں کا نظر انداز ہونا۔دعوت کو میدانِ جنگ بنا دینا — رزمیہ زبان معمولی بات کے لیے(mock-heroic)؛ 'آندھی' — ہجوم کی تیزی؛ 'بوٹی کی جنگ' — مضحکہ خیز سنجیدگی؛ 'مینار' — مبالغہ آمیز تصویر؛ آخری شعر کا موڑ: دولہا کو صرف رائتہ اور گاجر — ستم ظریفی؛ مکالمے سے آغاز۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q18Humorous and satirical poetry · Core · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔«ٹیوشن» (طبع زاد طنزیہ نظم)صبح اسکول، دوپہر اکیڈمی، شام کو ٹیوشن جانارات کو ہوم ورک کا پہاڑ، اور خواب میں بھی گھبرانااستاد جی اسکول میں کہتے: "یہ باب ذرا مشکل ہے،شام کو میری اکیڈمی آؤ، وہاں پر اس کا حل ہے"ابا جی کی تنخواہ آدھی فیسوں میں ڈھل جاتی ہےباقی آدھی نوٹس اور 'گیس پیپر' نگل جاتی ہےنمبر سارے آ جاتے ہیں، رٹا لگا کر پورےسوچ سمجھ کے خانے لیکن رہ جاتے ہیں ادھورے(یہ نظم ہوم لیبز کی طبع زاد ہے۔)

  1. (a) «یہ نظم ہنساتی کم اور رلاتی زیادہ ہے۔» اس بیان سے آپ کس حد تک متفق ہیں؟ نظم کے حوالوں سے تفصیلی جواب دیجیے۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• شاعر نے تعلیمی نظام کی کون سی خامیاں بیان کی ہیں؟• نظم میں طنز کے لیے کون سے ادبی حربے استعمال ہوئے ہیں؟ (مبالغہ، تجسیم، تضاد وغیرہ) [15]
Show answer
  1. (a) ہلکے مزاحیہ لمحے (استاد کا جملہ، گیس پیپر) مگر بنیادی لہجہ تلخ؛ طلبہ اور والدین کی بے بسی؛ آخری شعر کی سنجیدگی — تعلیم کا مقصد فوت؛ طالب علم کا ذاتی تجربہ؛ مدلل رائے۔مزید نکات: طلبہ پر بوجھ — اسکول، اکیڈمی، ٹیوشن، ہوم ورک؛ اساتذہ کا اسکول میں پورا نہ پڑھانا اور اپنی اکیڈمی کی طرف بلانا؛ والدین پر مالی بوجھ — آدھی تنخواہ فیسوں میں؛ رٹا اور گیس پیپر — سمجھ کے بغیر نمبر۔مبالغہ: ہوم ورک کا 'پہاڑ'، خواب میں بھی گھبرانا؛ تجسیم: تنخواہ کا 'ڈھلنا'، نوٹس کا 'نگلنا'؛ تضاد: 'نمبر سارے' بمقابلہ 'سوچ سمجھ کے خانے ادھورے'؛ استاد کا مکالمہ — منافقت کو خود اس کی زبان سے دکھانا؛ فہرست کا انداز (صبح، دوپہر، شام، رات) — مسلسل دباؤ۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q19Humorous and satirical poetry · Standard · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔اکبرؔ الٰہ آبادی:قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھرنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ(کلاسیکی شعرا کے مشہور اشعار؛ عوامی ملکیت۔)

  1. (a) یہ شعر سو برس سے زیادہ پرانا ہے۔ کیا اس کا طنز آج کے معاشرے پر بھی صادق آتا ہے؟ مثالوں کے ساتھ اپنی رائے دیجیے۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• اس شعر میں کس طبقے پر طنز کیا گیا ہے اور کیوں؟• شعر میں تضاد (غم/ڈنر، رنج/آرام) اور انگریزی لفظوں (ڈنر، لیڈر) کے استعمال کا کیا اثر ہے؟ [15]
Show answer
  1. (a) اچھا جواب: آج کے سیاسی/سماجی رہنماؤں کے بیانات اور طرزِ زندگی کا فرق؛ مہنگے اجلاس اور عوامی غربت؛ مثالیں عمومی (کسی زندہ شخص کا نام لیے بغیر)؛ طنز کی دیرپا قوت؛ متوازن رائے کہ سب رہنما ایسے نہیں۔مزید نکات: قوم کے نام پر سیاست کرنے والے لیڈروں پر؛ وہ قوم کا غم ظاہر کرتے ہیں مگر حکام کے ساتھ دعوتیں اڑاتے ہیں؛ ان کا دکھ صرف دکھاوا ہے، عوام کی تکلیف سے دور آرام دہ زندگی؛ منافقت۔تضاد: غم کے ساتھ ڈنر، رنج کے ساتھ آرام — ایک ہی مصرع میں دو متضاد چیزیں منافقت کو ننگا کرتی ہیں؛ 'مگر آرام کے ساتھ' — اختتامی چوٹ؛ انگریزی لفظ: اس دور کے انگریز نواز طبقے کی نشان دہی، اجنبیت اور مزاح؛ ردیف 'کے ساتھ' دونوں مصرعوں کو جوڑ کر طنز تیز کرتی ہے۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q20Humorous and satirical poetry · Standard · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔«لوڈشیڈنگ» (طبع زاد مزاحیہ نظم)بجلی آئی، خوش ہو کر ہم نے پنکھا کھولااتنے میں 'ٹک' کی آواز نے سب کچھ رولاآدھی قمیص پہ استری ٹھنڈی ہو کے سوئیباقی آدھی شکنوں میں ہی گم صم کھوئیڈرامے کی آخری قسط میں راز کھلنا تھاعین اسی لمحے بجلی کو بھی جانا تھاہمسائے کے یو پی ایس کی روشنی آئےہم گرمی میں بیٹھے ہاتھ کا پنکھا جھلائےابا بولے: "ہم تو بچپن میں بجلی بن ہی پلے!"ہم نے سوچا: آپ کے دور میں ڈرامے بھی کہاں چلے!(یہ نظم ہوم لیبز کی طبع زاد ہے۔)

  1. (a) کیا یہ نظم محض ہنسانے کے لیے ہے یا اس میں کوئی طنز بھی ہے؟ مزاح اور طنز کے فرق کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی رائے دیجیے۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• شاعر نے لوڈشیڈنگ سے پیدا ہونے والی روزمرہ مشکلات کو کس طرح پیش کیا ہے؟• نظم میں تجسیم (استری کا 'سونا'، قمیص کا 'گم صم' ہونا)، صوتی لفظ 'ٹک' اور آخری شعر کے موڑ پر تبصرہ کیجیے۔ [15]
Show answer
  1. (a) مزاح: روزمرہ کی جھنجھلاہٹ کو ہلکے انداز میں پیش کرنا؛ طنز: توانائی کے بحران اور انتظامیہ کی ناکامی کی طرف اشارہ، طبقاتی فرق (یو پی ایس والا ہمسایہ)؛ نسلوں کا رویہ؛ نتیجہ: بنیادی طور پر مزاح، طنز ہلکا اور بالواسطہ؛ مدلل رائے۔مزید نکات: پنکھا چلتے ہی بجلی کا جانا؛ آدھی استری شدہ قمیص؛ ڈرامے کا اہم لمحہ چھوٹ جانا؛ گرمی اور ہاتھ کا پنکھا؛ ہمسائے کے یو پی ایس سے احساسِ محرومی۔تجسیم: بے جان چیزوں کو انسانی کیفیت دینا — استری 'سو' گئی، قمیص اداس — مزاحیہ ہمدردی؛ 'ٹک' — بجلی جانے کی مانوس آواز، فوری اور تصویری اثر؛ آخری شعر: ابا کا روایتی 'ہمارے زمانے' والا جملہ اور بیٹے کا شوخ جواب — نسلوں کی نوک جھونک؛ ہلکا طنز دونوں پر۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q21Humorous and satirical poetry · Standard · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔«ڈرائیونگ» (طبع زاد مزاحیہ نظم)ابا جان نے ٹھان لیا کہ گاڑی خود چلائیں گےمحلے والے سمجھ گئے، اب سب گھر میں رہ جائیں گےپہلے دن جب گیئر بدلا، گاڑی پیچھے کو دوڑیدودھ والے نے سائیکل چھوڑی، بکری نے رسی توڑیسگنل لال تھا، ابا بولے: "یہ رنگ تو بس سجاوٹ ہے"سپاہی نے چالان جو کاٹا، بولے: "یہ سب بناوٹ ہے!"مہینے بھر کی مشق کے بعد اب ابا ماہر کہلاتے ہیںگاڑی تو گیراج میں ہے، وہ رکشے میں آتے جاتے ہیں(یہ نظم ہوم لیبز کی طبع زاد ہے۔)

  1. (a) «اس نظم کا مزاح ہمدردانہ ہے، مگر اس میں ایک سنجیدہ تنبیہ بھی چھپی ہے۔» نظم کے حوالوں سے اس بیان پر بحث کیجیے۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• نظم کے مرکزی کردار (ابا جان) کی کمزوریاں کیا ہیں اور شاعر نے انہیں کیسے پیش کیا ہے؟• نظم میں مبالغہ، صورتِ حال کے مزاح اور آخری شعر کے موڑ سے مزاح کیسے پیدا ہوا ہے؟ [15]
Show answer
  1. (a) ہمدردانہ مزاح: ابا کا تمسخر نہیں بلکہ گھر کے پیار بھرے لہجے میں ان کی کمزوریوں پر ہنسی؛ کردار برا نہیں، صرف ضدی اور خود اعتماد؛ سنجیدہ تنبیہ: ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی (لال سگنل)، تربیت کے بغیر گاڑی چلانا دوسروں (دودھ والا، راہ گیر) کے لیے خطرہ؛ سپاہی کا چالان — قانون کی اہمیت؛ آخری شعر — بالآخر حقیقت کو ماننا؛ مدلل ذاتی رائے؛ حوالے۔مزید نکات: حد سے زیادہ خود اعتمادی — 'گاڑی خود چلائیں گے' کا اعلان؛ ناتجربہ کاری — گیئر بدلتے ہی گاڑی کا پیچھے دوڑنا؛ قانون سے بے پروائی — لال سگنل کو 'سجاوٹ' کہنا؛ غلطی تسلیم نہ کرنا — چالان کو 'بناوٹ' کہنا؛ دعوے اور حقیقت کا فرق — 'ماہر' کہلاتے ہیں مگر رکشے میں سفر کرتے ہیں۔مبالغہ: ابا کے اعلان پر محلے والوں کا گھروں میں رہ جانا؛ صورتِ حال کا مزاح: دودھ والے کا سائیکل چھوڑ کر بھاگنا اور بکری کا رسی توڑنا — پورے محلے کی افراتفری کی تصویر؛ قافیے (دوڑی/چھوڑی/توڑی) تیزی اور ہلچل کا آہنگ پیدا کرتے ہیں؛ مکالمہ: 'یہ رنگ تو بس سجاوٹ ہے' — کردار کی اپنی آواز میں اس کی حماقت؛ آخری شعر: 'ماہر کہلاتے ہیں' مگر گاڑی گیراج میں اور خود رکشے میں — غیر متوقع موڑ اور ستم ظریفی۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q22Humorous and satirical poetry · Challenge · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔اکبرؔ الٰہ آبادی:کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالوجب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو(کلاسیکی شعرا کے مشہور اشعار؛ عوامی ملکیت۔)

  1. (a) «ظرافت(wit)اور طنز میں فرق ہے۔» اس شعر کو ظرافت کہیں گے یا طنز؟ اکبرؔ کے دوسرے مشہور طنزیہ اشعار کے مقابلے میں اپنی رائے دلائل سے دیجیے۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• اس شعر کا پیغام کیا ہے؟• شعر میں ہتھیاروں کی درجہ بندی (کمان، تلوار، توپ، اخبار) اور غیر متوقع اختتام سے ظرافت کیسے پیدا ہوتی ہے؟ [15]
Show answer
  1. (a) ظرافت: ذہانت سے بھرپور، لطیف، لفظی کھیل — یہ شعر اسی زمرے میں؛ طنز: کسی برائی پر چوٹ (مثلاً لیڈروں کی منافقت والا شعر)؛ یہاں چوٹ کم، حکمت اور مشورہ زیادہ — ہلکا طنز طاقت ور پر بھی؛ نتیجہ: دونوں کا امتزاج مگر غالب پہلو ظرافت؛ کوئی بھی مدلل رائے قبول۔مزید نکات: طاقت ور (توپ) کا مقابلہ پرانے ہتھیاروں (کمان، تلوار) سے نہیں ہو سکتا؛ قلم/صحافت سب سے مؤثر ہتھیار ہے؛ رائے عامہ بنا کر ظلم کا مقابلہ کیا جائے؛ زمانے کے مطابق حکمتِ عملی بدلنی چاہیے۔پہلے مصرع میں جنگ کی فضا؛ قاری توقع کرتا ہے کہ توپ کے مقابلے میں کوئی بڑا ہتھیار آئے گا، مگر 'اخبار' — غیر متوقع موڑ(bathos)جو ہنساتا بھی ہے اور چونکاتا بھی؛ 'نکالو' کا دہرا معنی — تلوار میان سے نکالنا اور اخبار شائع کرنا؛ امر کا انداز؛ قافیہ و ردیف کی چستی۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q23Humorous and satirical poetry · Challenge · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔«سیلفی» (طبع زاد طنزیہ نظم)کھانا آیا میز پہ تو سب نے فون نکالےپہلے سو تصویریں کھینچیں، پھر ٹھنڈے نوالےچڑیا گھر میں شیر کی جانب پیٹھ کیے مسکائےشیر بیچارہ سوچ رہا تھا: یہ کیسے انسان آئے!دادا جان کی سالگرہ پر کیک تو بعد میں آیاپہلے 'لائکس' گنے گئے، پھر دادا کو بلایاآئینے نے روٹھ کے پوچھا: "میرا کیا قصور؟"فون بولا: "تو سچ دکھاتا ہے، یہی ہے تیرا فتور!"(یہ نظم ہوم لیبز کی طبع زاد ہے۔)

  1. (a) «یہ نظم مزاح سے زیادہ طنز ہے۔» اس بیان پر نظم کے حوالوں سے بحث کیجیے اور بتائیے کہ آپ اس طنز سے کس حد تک متفق ہیں۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• اس نظم میں سوشل میڈیا کے کن رویوں پر طنز کیا گیا ہے؟• نظم میں زاویۂ نظر کی تبدیلی (شیر کی سوچ) اور آئینے اور فون کے مکالمے کی ادبی اہمیت بیان کیجیے۔ [15]
Show answer
  1. (a) طنز کا ثبوت: اقدار کے زوال (رشتے، سچائی) پر چوٹ؛ ہر شعر میں ایک برائی؛ مزاحیہ مناظر (شیر، سو تصویریں) طنز کو قابلِ قبول بناتے ہیں؛ اختلاف: سوشل میڈیا کے فوائد بھی، نظم یک طرفہ؛ ذاتی رائے۔مزید نکات: ہر لمحے کی تصویر کھینچنے کا جنون — کھانا ٹھنڈا ہونا؛ خطرے سے بے پروائی (شیر کی طرف پیٹھ)؛ رشتوں سے زیادہ 'لائکس' کی اہمیت — دادا کو بعد میں بلانا؛ فلٹر شدہ، غیر حقیقی تصویروں کو سچائی پر ترجیح۔شیر کی نظر سے انسان کو دیکھنا — الٹا زاویہ جو انسانی حماقت کو نمایاں کرتا ہے، جانور زیادہ سمجھدار لگتا ہے؛ آئینہ اور فون کی تجسیم — پرانی سچائی بمقابلہ نئی ٹیکنالوجی؛ تمثیلی مکالمہ؛ 'سچ دکھانا' کو 'فتور' (خرابی) کہنا — ستم ظریفی، اقدار کا الٹ جانا؛ نظم کا مرکزی خیال آخری شعر میں سمٹ آتا ہے۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q24Humorous and satirical poetry · Challenge · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔«سرکاری فائل» (طبع زاد طنزیہ نظم)دفتر میں اک فائل میری دس برسوں سے سوتی ہےہر میز پہ جا کر تھوڑی سی موٹی اور ہوتی ہےبابو جی کہتے ہیں: "صاحب آج نہیں، کل آنا"کل جاؤ تو "صاحب میٹنگ میں ہیں" کا افسانہچائے کے کپ ہیں، اخباروں کے ڈھیر ہیں، فون پہ باتیںکام کی بات اگر چھیڑو تو گنتے ہیں تاریخیں، راتیںبولے بابو مسکا کر: "جلدی ہو سکتی ہے، پر —"آنکھ دبا کر میز کی نیچی دراز کی جانب کی نظر(یہ نظم ہوم لیبز کی طبع زاد ہے۔)

  1. (a) طنز نگار کا مقصد معاشرے کی اصلاح ہوتا ہے۔ کیا یہ نظم اس مقصد میں کامیاب ہے؟ مزاح اور طنز کے توازن پر بھی بحث کیجیے۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• اس نظم میں سرکاری دفاتر کی کن خرابیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے؟• آخری شعر میں بات کو کھل کر کہنے کے بجائے اشارے میں کہنے کا کیا اثر ہے؟ فائل کی تجسیم پر بھی تبصرہ کیجیے۔ [15]
Show answer
  1. (a) طنز تیز مگر شائستہ؛ ہر قاری کا جانا پہچانا تجربہ — اثر انگیز؛ مزاح (فائل کا سونا، افسانہ) تلخی کو قابلِ برداشت بناتا ہے؛ اصلاح: مسئلہ واضح کرتی ہے مگر حل نہیں دیتی — طنز کا کام آئینہ دکھانا؛ مدلل رائے؛ حوالے۔مزید نکات: کام میں حد سے زیادہ تاخیر — دس برس سے فائل؛ کاغذی کارروائی کا بڑھتا بوجھ — فائل کا موٹا ہونا؛ ٹال مٹول اور بہانے — 'کل آنا'، 'میٹنگ میں ہیں'؛ کام کے وقت غیر متعلقہ مصروفیات — چائے، اخبار، فون؛ رشوت — دراز کی طرف اشارہ۔'پر —' کے بعد ڈیش — جملہ ادھورا، قاری خود سمجھ جاتا ہے؛ آنکھ دبانا اور دراز کی طرف نظر — رشوت کا تصویری اشارہ؛ اشارہ زیادہ تیز طنز ہے کیونکہ یہ برائی کا عام اور 'سمجھا ہوا' ہونا دکھاتا ہے؛ فائل کا 'سونا' اور 'موٹا ہونا' — تجسیم، کاہلی اور بیوروکریسی کی تصویر۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q25Nazm: message and themes · Core · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔علامہ اقبالؔ («بچے کی دعا» سے):لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میریزندگی شمع کی صورت ہو خدایا میریدور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائےہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائےہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنادردمندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنامرے اللہ برائی سے بچانا مجھ کونیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو(کلاسیکی شعرا کے مشہور اشعار؛ عوامی ملکیت۔)

  1. (a) «یہ نظم صرف بچے کی دعا نہیں بلکہ ایک مثالی انسان کا خاکہ ہے۔» اس بیان پر بحث کیجیے۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• اس نظم میں بچہ اپنے لیے کون سی خواہشیں مانگتا ہے؟• نظم میں 'شمع' اور 'اندھیرا/اجالا' کی علامتوں اور دعائیہ انداز کی وضاحت کیجیے۔ [15]
Show answer
  1. (a) ذاتی اصلاح (برائی سے بچاؤ) + سماجی خدمت (غریبوں کی حمایت) + علم و روشنی — مثالی کردار کے تین پہلو؛ خود غرضی کے بجائے دوسروں کی بھلائی؛ ہر عمر کے لیے پیغام؛ ذاتی رائے؛ حوالے۔مزید نکات: زندگی شمع کی طرح ہو — دوسروں کو روشنی دے؛ دنیا کا اندھیرا (جہالت، برائی) اس کی وجہ سے دور ہو؛ غریبوں کی مدد اور کمزوروں، دکھیاروں سے محبت؛ برائی سے بچاؤ اور نیک راہ پر چلنا۔شمع: خود جل کر روشنی دینا — قربانی اور خدمت؛ اندھیرا = جہالت، ظلم، برائی؛ اجالا = علم، نیکی؛ دعائیہ انداز ('خدایا'، 'مرے اللہ') — عاجزی، خلوص اور معصومیت؛ سادہ، رواں زبان جو بچوں کے لیے موزوں اور یاد رکھنے میں آسان۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q26Nazm: message and themes · Core · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔«مزدور» (طبع زاد نظم)اینٹ پہ اینٹ رکھی، شہر بسایا میں نےاپنے ہاتھوں سے محل سب کا سجایا میں نےمیری کٹیا میں مگر آج بھی ٹپکی ہے چھتدوسروں کے لیے ہر گھر کو بچایا میں نےمیرے بچے بھی تو اسکول کا رستہ دیکھیںیہ ہی اک خواب ہے سینے میں چھپایا میں نےمجھ کو خیرات نہیں، اپنی مشقت کا صلہیہ سبق آج زمانے کو پڑھایا میں نے(یہ نظم ہوم لیبز کی طبع زاد ہے۔)

  1. (a) «یہ نظم ہمدردی نہیں، انصاف مانگتی ہے۔» اس بیان کی روشنی میں نظم کے پیغام پر بحث کیجیے۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• نظم میں مزدور اپنے بارے میں کیا کہتا ہے؟• نظم میں تضاد (محل/کٹیا) اور ردیف «میں نے» کا اثر واضح کیجیے۔ [15]
Show answer
  1. (a) 'خیرات نہیں' — رحم کے بجائے حق کا مطالبہ؛ مزدور کو کمزور نہیں بلکہ خوددار اور باشعور دکھایا گیا؛ معاشی ناانصافی، کم اجرت، بچوں کی تعلیم کا حق؛ قاری کی ذمہ داری؛ ذاتی رائے؛ حوالے۔مزید نکات: اس نے شہر بسائے اور محل سجائے — معاشرے کی تعمیر میں اس کا ہاتھ؛ خود ٹپکتی چھت والی کٹیا میں رہتا ہے — محرومی؛ اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کا خواب؛ خیرات نہیں بلکہ محنت کا جائز معاوضہ چاہتا ہے — خودداری۔تضاد: دوسروں کے محل بمقابلہ اپنی ٹپکتی کٹیا؛ دوسروں کے گھر بچائے مگر اپنا نہیں — ناانصافی نمایاں؛ ردیف 'میں نے' — مزدور کا اپنی محنت پر فخر اور دعویٰ، پہلی بار وہ خود اپنی کہانی سنا رہا ہے؛ آخری شعر میں 'میں نے سبق پڑھایا' — مزدور استاد کے مقام پر، کردار کا الٹ جانا۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q27Nazm: message and themes · Standard · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔علامہ اقبالؔ:افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیرہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا(کلاسیکی شعرا کے مشہور اشعار؛ عوامی ملکیت۔)

  1. (a) ایک طالب علم کے طور پر آپ اس شعر کے پیغام پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟ اقبالؔ کی فکر کے حوالے سے تفصیل سے لکھیے۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• اس شعر کا مفہوم اپنے الفاظ میں واضح کیجیے۔• 'مقدر کا ستارا' کے استعارے اور دونوں مصرعوں کے باہمی تعلق پر تبصرہ کیجیے۔ [15]
Show answer
  1. (a) عملی مثالیں: ایمان داری، تعلیم میں محنت، قانون کی پابندی، صفائی، رضاکارانہ کام؛ اقبال کی فکر: خودی، عمل، مایوسی سے انکار؛ ذاتی عزم؛ شعر کا حوالہ۔مزید نکات: قوموں کا مستقبل ان کے افراد کے عمل پر منحصر ہے؛ کوئی فرد معمولی نہیں — ہر شخص قوم کی قسمت چمکا سکتا ہے؛ ذمہ داری کا احساس؛ اجتماعی ترقی انفرادی محنت سے۔روایتی تصور: قسمت ستاروں سے وابستہ؛ اقبال نے فرد کو ہی ستارا کہہ کر تقدیر کو انسان کے عمل سے جوڑ دیا — روایتی تصور کی نئی تعبیر؛ ستارا = روشنی، رہنمائی؛ پہلا مصرع عمومی اصول، دوسرا اس کی وضاحت اور ہر فرد پر اطلاق؛ 'تقدیر' اور 'مقدر' کا تکرارِ معنی سے زور۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q28Nazm: message and themes · Standard · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔«قلم» (طبع زاد نظم)قلم اٹھاؤ کہ اندھیروں کو اب مٹانا ہےہر ایک گاؤں میں علم کا دیا جلانا ہےجو بیٹیاں ہیں گھروں میں، انہیں بھی پڑھنے دوانہیں بھی کل کا سنہرا وطن بنانا ہےیہ بندوقیں، یہ نفرتیں، یہ جہل کی دیوارقلم کی نوک سے اک دن انہیں گرانا ہےاٹھو کہ وقت کا دریا کسی کو تکتا نہیںہمیں بھی اپنی صدی میں قدم بڑھانا ہے(یہ نظم ہوم لیبز کی طبع زاد ہے۔)

  1. (a) یہ نظم پاکستان کے کن مسائل کی طرف اشارہ کرتی ہے؟ کیا آپ کے خیال میں تعلیم ان سب مسائل کا حل ہے؟ تفصیل سے لکھیے۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• اس نظم میں تعلیم کے کون سے فوائد اور مقاصد بیان کیے گئے ہیں؟• نظم میں 'قلم' اور 'بندوق' کے تضاد اور «وقت کا دریا» کے استعارے پر تبصرہ کیجیے۔ نظم کے خطابیہ لہجے کی بھی وضاحت کیجیے۔ [15]
Show answer
  1. (a) مسائل: دیہی علاقوں میں اسکولوں کی کمی، لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹیں، انتہا پسندی اور تشدد، ترقی میں پیچھے رہ جانا؛ تعلیم بنیادی حل مگر معیشت، انصاف اور حکمرانی بھی ضروری؛ متوازن رائے؛ حوالے۔مزید نکات: جہالت کا اندھیرا مٹانا؛ ہر گاؤں تک علم پہنچانا؛ لڑکیوں کی تعلیم سے روشن مستقبل؛ تشدد، نفرت اور جہالت کا خاتمہ؛ قوم کا زمانے کے ساتھ آگے بڑھنا۔قلم = علم، امن، تعمیر؛ بندوق = تشدد، تخریب — قلم کی 'نوک' بندوق کی دیوار گراتی ہے؛ وقت کا دریا — بہتا جاتا ہے، کسی کا انتظار نہیں کرتا — جلدی کی ضرورت؛ خطابیہ لہجہ: 'اٹھاؤ'، 'پڑھنے دو'، 'اٹھو' — امر کے صیغے، جوش اور تحریک؛ ردیف 'ہے' اور قافیے (مٹانا، جلانا، بنانا، گرانا، بڑھانا) — سب عمل کے افعال۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q29Nazm: message and themes · Challenge · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔«پانی کی پکار» (طبع زاد آزاد نظم)میں پانی ہوں، میں زندگی ہوںپہاڑ سے اتر کرکھیتوں کی رگوں میں دوڑتا ہوںبچوں کے ہونٹوں پر ہنسی بنتا ہوںمگر تم نے مجھےنالیوں میں بہا دیاکارخانوں کا زہرمیرے سینے میں انڈیل دیااور اب پوچھتے ہوکہ پیاس کیوں بڑھ گئی ہے؟سنو!مجھے بچا لوکہ کل جب تم مجھے پکارو گےتو شایدمیں جواب نہ دے سکوں(یہ نظم ہوم لیبز کی طبع زاد ہے۔)

  1. (a) «نظم کا کام نصیحت کرنا نہیں، محسوس کرانا ہے۔» کیا یہ نظم نصیحت بن جاتی ہے یا قاری کو محسوس کراتی ہے؟ اپنی رائے دلائل سے دیجیے۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• نظم کا مرکزی پیغام کیا ہے؟• نظم میں پانی کو بولنے والا کردار (تجسیم/خود کلامی) بنانے کا کیا اثر ہے؟ تین بندوں کی ترتیب کی بھی وضاحت کیجیے۔ [15]
Show answer
  1. (a) محسوس کرانا: تصویریں (بچوں کی ہنسی، زہر انڈیلنا)، پانی کا دکھ؛ نصیحت: 'مجھے بچا لو' براہِ راست اپیل — بعض قارئین کو تقریری لگ سکتی ہے؛ مگر جذبات کی بنیاد پر آتی ہے، خشک وعظ نہیں؛ متوازن مدلل رائے؛ حوالے۔مزید نکات: پانی زندگی کی بنیاد ہے (کھیت، بچوں کی ہنسی)؛ انسان نے اسے ضائع اور آلودہ کیا (نالیاں، کارخانوں کا زہر)؛ پانی کی کمی انسان کا اپنا قصور؛ ابھی نہ سنبھلے تو مستقبل میں پانی ختم ہو سکتا ہے۔پانی کا 'میں' میں بولنا — براہِ راست، جذباتی اپیل، قاری کو مجرم کی طرح مخاطب کرنا؛ 'رگوں'، 'سینے' — انسانی جسم کی تصویریں؛ ترتیب: پہلا بند — پانی کی نعمت؛ دوسرا — انسان کا ظلم اور ستم ظریف سوال؛ تیسرا — التجا اور تنبیہ؛ 'سنو!' کا ایک لفظی مصرع توجہ کھینچتا ہے؛ آخری 'شاید' — خوفناک امکان۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں
Q30Nazm: message and themes · Challenge · Paper 2 style · 15 marks

یہ سوال نصابی شاعری کے سوالات کے انداز میں ہے۔ درج ذیل اشعار کی روشنی میں جواب دیجیے اور اپنے نکات کو اشعار کے حوالوں سے ثابت کیجیے۔«یہ دیس ہمارا ہے» (طبع زاد نظم)یہ دیس ہمارا ہے، اسے مل کے سنوارنا ہےہر جھوٹ کو، رشوت کو، دلوں سے اتارنا ہےپنجابی ہو، سندھی ہو، بلوچ ہو کہ پشتوناک پھول کی پتیاں ہیں، چمن کو نکھارنا ہےجو وقت گنوایا ہے، وہ لوٹ نہ پائے گااب آنے والا ہر پل محنت میں گزارنا ہےمشکل ہے بہت رستہ، طوفان بھی ہیں لیکنہم قوم ہیں زندہ، ہمیں حوصلہ نہ ہارنا ہے(یہ نظم ہوم لیبز کی طبع زاد ہے۔)

  1. (a) اصلاحی/قومی نظموں پر اکثر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ نعرہ بن جاتی ہیں۔ کیا یہ نظم اس اعتراض سے بچ پاتی ہے؟ نظم کے حوالوں اور اپنی رائے کے ساتھ بحث کیجیے۔اپنے جواب میں یہ نکات بھی شامل کیجیے:• اس نظم میں قوم کی اصلاح کے لیے کون سی باتوں پر زور دیا گیا ہے؟• «اک پھول کی پتیاں ہیں» کی تشبیہ اور نظم کے اصلاحی لہجے پر تبصرہ کیجیے۔ [15]
Show answer
  1. (a) نعرہ نما پہلو: براہِ راست بیانات، تصویروں کی کمی (سوائے پھول/چمن، طوفان)؛ بچاؤ کے پہلو: 'ہم' کا خلوص، حقیقت پسندی ('وقت گنوایا ہے'، 'مشکل ہے بہت رستہ')؛ ترانے کی صنف میں سادگی خوبی بھی ہو سکتی ہے؛ متوازن رائے؛ حالی کی اصلاحی شاعری سے موازنہ اختیاری۔مزید نکات: مل جل کر ملک سنوارنا؛ جھوٹ اور رشوت کا خاتمہ؛ صوبائی/لسانی اتحاد؛ وقت کی قدر اور محنت؛ مشکلات میں حوصلہ۔تشبیہ: مختلف قومیتیں ایک پھول کی پتیاں — الگ الگ مگر ایک دوسرے کے بغیر پھول نامکمل؛ تنوع میں وحدت؛ چمن = وطن؛ لہجہ: پرعزم، ناصحانہ، مگر 'ہم' کا صیغہ — شاعر خود کو بھی شامل کرتا ہے، وعظ کم اور عہد زیادہ؛ سادہ، ترانے جیسی زبان۔
    بینڈ (کل 15؛ سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور متن کے برمحل حوالے کو مجموعی طور پر دیکھیے): 13–15 بیان پر مدلل اور متوازن بحث، گہرا فہم، اسلوب پر عمدہ تبصرہ، کم از کم تین برمحل حوالے؛ 10–12 واضح بحث اور مناسب حوالے، اسلوب پر کچھ تبصرہ؛ 7–9 درست مگر سطحی جواب، زیادہ تر وضاحت یا خلاصہ؛ 4–6 محدود فہم، حوالے بہت کم؛ 1–3 بہت کم متعلقہ مواد۔متوقع نکات: بیان پر بحث کے ساتھ دونوں ذیلی نکات، جوابی کلید کے مطابق۔بینڈ کے مطابق جانچ: سوال سے مطابقت، فہم، اسلوب پر تبصرہ اور اشعار کا برمحل حوالہ؛ صرف شاعر کی سوانح یا عمومی تعریف پر نمبر نہیں

Similar questions

Questions that test the same subtopic in different years, grouped so you can work on one skill at a time.

References only: find each question in its paper (official link where available, otherwise through your school).

Ghazal: style and mood Banker5 questions · 5/5 sessions
Humorous and satirical poetry 3 questions · 3/5 sessions
Nazm: message and themes Rare2 questions · 2/5 sessions

Subtopics

Our analysis of how often each subtopic was examined and how many marks it carried, 2022 to May/June 2026.

SubtopicMarks indexedSessions
Ghazal: style and mood Banker37.55/5
Humorous and satirical poetry 22.53/5
Nazm: message and themes Rare152/5

← All Urdu First Language topics